دینے کے بعد پانا
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۶
دینے کے بعد پانا
انگریزی کا مقولہ ہے کہ ہم دیتے ہیں تبھی ہم پاتے ہیں (In giving that we receive) اس کی ایک مثال اکتوبر ۱۹۸۴ میں برطانیہ کی ملکہ کا چین کا دورہ ہے۔ یہ چین کے لیے برطانیہ کے کسی شاہی فرد کا پہلا تاریخی دورہ تھا۔ چین اور برطانیہ ایک سو سال سے ایک دوسرے کے روایتی رقیب بنے ہوائے تھے۔ اس دورہ سے برطانیہ کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ چین کے ساتھ اس کا ایک بلین ڈالر سے زیادہ ($ 1.5 billion) سالانہ تجارت کا معاہدہ یقینی ہو گیا۔ پانے کا یہ معاملہ دینے کے بعد ہوا ہے۔ ٹائم میگزین (۲۷ اکتوبر ۱۹۸۶) نے اس دورہ کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ با معنی الفاظ لکھے ہیں :
Her Majesty Queen Elizabeth II had long voiced a desire to visit the People's Republic of China. But as long as Britain ruled a piece of Chinese territory, the crown colony of Hong Kong, such a journey was impossible. The 1984 Sino-British agreement returning Hong Kong to China in 1997 provided the price of admission (p. 22). ملکہ الزبتھ بہت عرصہ سے اس خواہش کا اظہار کر رہی تھیں کہ وہ چین جانا چاہتی ہیں۔ مگر جب تک برطانیہ چین کے ایک حصہ (ہانگ کانگ) کا حکمراں تھا اس قسم کا سفر ناممکن بنا رہا۔ ۱۹۸۶ میں چین۔ برطانیہ معاہدہ ہو جس کے مطابق برطانیہ ۱۹۹۷ میں ہانگ کانگ کو واپس کر دے گا۔ اس معاہدہ نے ملکہ برطانیہ کے چین میں داخلہ کی قیمت ادا کر دی۔
برطانیہ نے ہانگ کانگ کے معاملہ میں چین کے مطالبہ کو مان لیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اس کے لیے چین میں تجارت کا وسیع دروازہ کھلے۔ اگرچہ ہانگ کانگ کو دوبارہ چین کے حوالے کرنا ایک بے حد سخت معاملہ تھا۔ ٹائم کے الفاظ میں ، اس کا مطلب یہ تھا کہ برطانیہ کا ایک ہیرا اس کے تاج سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے ۔ یہی موجودہ دنیا کا قانون ہے ۔ یہاں دوسروں سے لینے کے لیے دوسروں کو دینا پڑتا ہے۔ جو لوگ دیے بغیر یک طرفہ طور پر دوسروں سے لینا چاہتے ہوں ، ان کے لیے موجودہ دنیا میں کچھ بھی پا نا مقدر نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues