سچائی کو پانے والا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷
الرساله پڑھتے ہی ان کی غلط فہمی ختم ہوجاتی ہے ۔ ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں: میں آپ کے ماہنامہ الرساله سے متنفر تھا۔ لیکن وہ میرا تعاقب کرتا رہا ۔ با دل ناخواستہ ایک مرتبہ مطالعہ کے لیے اٹھایا تو عجیب ٹیسٹ ملا۔ پھر تو احباب سے لے کر برابر دیکھنے لگا۔ ہر مرتبہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ گھر میں کھلنے لگیں۔ اس کے مضامین دلوں میں پیدا ہوتے والے گمراہ کن خیالات کا جواب نیز قلب وفکر کی تطہیر کے ساتھ اکتشاف حق کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ یقیناً میری طرح ایسے بہت افراد ہوں گے جو منجمد ماحول اور مخصوص تربیت کی وجہ سے تقلیدی بدظنی کا شکار ہوں گے۔ اب برائے کرم مندرجہ ذیل پتہ پر اس کو جاری فرمادیں اور جواب میں مطلع کریں کہ الرسالہ کی فائلیں کیا دستیاب ہو سکتی ہیں (توحید احمد قاسمی، جونپور)
۱۴۔ الرسالہ کے مشن کو پھیلانے کے لیے ابھی بہت کم براہ راست کوشش کی جا سکی ہے مگر یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ وہ اپنے آپ پھیل رہا ہے۔ ۱۰ جولائی ، ۱۹۸۴ء کو ابوظبی سے ٹیلی فون آیا۔ ایک بزرگ (محمد اقبال صاحب) نے بتایا کہ وہ اسلامی مرکز کے مشن سے ناواقف تھے۔ اتفاقاً انھیں "خاتونِ اسلام" ملی ۔ اس کو پڑھ کر وہ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ————— اسی طرح ہر روز تحریری یا زبانی طور پر خبریں ملتی رہتی ہیں۔ ۱۵۔ ایک صاحب (دوحہ قطر) سے لکھتے ہیں : الرسالہ کے دو شمارے دسمبر ۱۹۸۲ اور نومبر ۱۹۸۶ ایک دوست سے پڑھنے کو ملے ۔ تمام مضامین آج کل کے ماحول کے عین مطابق ہیں۔ ایک بار الرسالہ پڑھنا شروع کرو تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا ۔ ایک ایک مضمون عصری اسلوب میں بیان کیا گیا ہے ۔ کتنا بھی زیادہ پڑھ جاؤ نگار پر کسی طرح کا بار محسوس نہیں ہوتا۔ سوئے ہوئے کو جگانا تو ایک عام سی بات ہے۔ لیکن جو جاگتے ہوئے بھی سوئے ہوئے ہوں ان کا جگانا ایک عام سی بات نہیں بلکہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اسی کے مصداق ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ جب سے الرساله جاری کیے ہوئے ہیں یعنی پہلے شمارہ سے لے کر آج تک سب ایک ایک عدد اور "عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر" کا مکمل سیٹ بذریعہ ہوائی ڈاک مجھے روانہ کر دیں (محمد سعید)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues