سچائی کو پانے والا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۶
مسلمان شریک ہوئے ۔ صدر اسلامی مرکز نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلام کیا ہے اور موجودہ حالت میں احیاء ملت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ ۱۰- مجلہ البلاغ (کویت) کے نمائندہ محمد یاسر القضانی نے ۸ اکتوبر ، ۱۹۸۷ کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور البلاغ کے لیے ان کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ڈیڑھ درجن سوالات اور جوابات پر مشتمل تھا۔ سوالات ذاتی نوعیت کی باتوں سے لے کر علمی اور ملی مسائل تک پھیلے ہوئے تھے۔ دوران گفتگو انھوں نے اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ اسلامی مرکز کی مطبوعات کو جلد سے جلد عربی زبان میں منتقل ہونا چاہیے ۔
۱۱- اسلامی مرکز کے مشن کے تعارف کے لیے انگریزی اخبارات میں متعدد خطوط اور آرٹیکل شائع کرائے گیے۔ ٹائمْس آف انڈیا (۱۵ ستمبر، ۱۹۸۷) نے اسلامی مرکز کا ایک مفصل آرٹیکل شائع کیا ۔ اس کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کی اشاعت کے بعد مرکز میں کافی خطوط اور ٹیلی فون آئے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بہت مفید سلسلہ ہے۔ اس کو جاری رکھا جائے ۔ خود اخبار میں کافی خطوط موافق اور مخالف چھپتے رہے۔ یہاں صرف ایک خط مطبوعہ ٹائمس آف انڈیا ۶ اکتوبر ، ۱۹۸۷ کا ایک پیرا گراف نقل کیا جاتا ہے :
Maulana Wahiduddin Khan (September 15) has given golden advice to Muslim Indians - to stop complaining and start creating. As long as there are men like Maulana Wahiduddin Khan in the Muslim community, there is hope for it. K. R. Malkani, New Delhi. (The Times of India, October 6, 1987) ۱۲- ایک صاحب جو یورپ کے ایک ملک سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے ٹائمْس آف انڈیا کا مذکورہ مضمون پڑھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے خط (۲۰ ستمبر، ۱۹۸۷) حسب ذیل الفاظ میں اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے :
I was very interested to see the article printed in The Times of India (15-9-87). It is extremely encouraging that the message of Al-Risala is receiving nationwide dissemination and one can only hope that people hearken to it. ۱۳- الرسالہ کے بارہ میں بدگمانی میں صرف وہ لوگ رہتے ہیں جنھوں نے الرسالہ کو نہ پڑھاہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues