Al-Risala · February 1987 · page 12

ایک حقیقت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲

بھی ہیں اور ”مانگنے والے“ بھی۔ جب کہ تبلیغی جماعت چندہ کی کوئی بات نہیں کرتی۔ وہ صرف دیتی ہے، وہ مانگتی نہیں۔

یہی فرق ہے جس کی بنا پر مدرسوں کے سفیر ناکام ہیں اور تبلیغ کے لوگ کامیاب۔ جب آپ کسی کے سامنے دینے والے اور مانگنے والے دونوں بن کر جائیں تو اس کو آپ صرف مانگنے والے نظر آئیں گے، دینے والے کی حیثیت سے آپ کی تصویر اس کی نظر میں اوجھل ہو جائے گی۔

تبلیغی جماعت نے جو طریقہ مسلمانوں کے سلسلہ میں اختیار کیا وہی طریقہ غیرمسلموں کے سلسلہ میں بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ہمیں غیر مسلموں کو ” قرآن “ دینا ہے تو اس سے پہلے، ہمیں اپنی تمام مانگوں کو چھوڑنا ہوگا۔ آج ہمارے تمام لیڈر غیر مسلموں کے مقابلہ میں احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم چلا رہے ہیں۔ خدا کے پیغمبر اپنی مخاطب قوموں سے کہتے تھے کہ لا اسئلکم علیہ من اجر (میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا) اس کے برعکس مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اسئلکم علیہ من اجر (میں اس پر تم سے اجر کا طالب ہوں) کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کوئی مسلم رہنما یہ کرے کہ وہ ایک ہاتھ سے وزیر اعظم کو شکایات اور مطالبات کا میمورنڈم دے اور دوسرے ہاتھ سے قرآن کا ایک نسخہ بھی انھیں پیش کر دے تو یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مذاق ہوگا کہ خدا کی کتاب کو غیر مسلم حکمران تک پہنچانا۔

اگر ہم واقعۂ دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو ہم کو اول مرحلہ میں یہ جان لینا چاہیے کہ دوسری قوموں تک خدا کے دین کا پیغام پہونچانے کے لیے ہمیں خدائی اخلاقیات کی سطح پر آنا پڑے گا۔ یعنی یک طرفہ عمل کے ذریعہ انھیں خدا کے دین رحمت کا مخاطب بنانا، بغیر اس کے کہ کسی بھی معاملہ میں ہم ان کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں، یا ان کے ساتھ حقوق طلبی کی مہم میں مشغول ہوں ۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس لیے یہ قدرتی بات ہے کہ اس دنیا میں ہمارے کچھ مادی اور تہذیبی مسائل ہوں۔ لیکن اگر ہمیں خدا کے یہاں داعی کا کریڈٹ لینا ہے تو ہمیں اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page