Al-Risala · February 1987 · page 13

ایک حقیقت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳

مسائل کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو قرار دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے مسائل کو اپنی داخلی کوششوں کے ذریعہ حل کرنا ہوگا نہ یہ کہ ایک یا دوسری وجہ بتا کر ہم اپنی مدعو اقوام کے خلاف مطالبا تی مہم شروع کر دیں۔

غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے، ہمیں ان کے مقابلہ میں وہی کرنا ہوگا جو مسلمانوں کے سلسلہ میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے۔ یعنی یک طرفہ قربانی کے ذریعہ ان کے سامنے بالکل بے غرض بن جانا۔ اگر ہم اس ملک میں " مانگنے والے" بنے ہوئے ہوں تو عین اسی وقت ہم انھیں " دینے والے " نہیں بن سکتے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو غیر مسلموں کے لیے بھی اتنا ہی صحیح ہے جتنا مسلمانوں کے لیے ۔ اصل یہ ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے ، اسی طرح داعی بننے کی بھی ایک قیمت ہے۔ مسلمان ابھی تک اس ملک میں داعی نہیں بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ داعی بننے کی قیمت کیا ہے ۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی مدعو کی نظر میں آخری حد تک بے غرض بن جائے ، خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی قربانی دینی ہو اور اسے کچھ بھی برداشت کرناپڑے۔ مدعو کی نظر میں اس کی ایک ہی تصویر ہو۔ اور وہ داعی کی تصویر ہو۔ مدعو کی نظر میں داعی کا مقام حاصل کرنے کے لیے وہ یک طرفہ طور پر مدعو سے اپنے تمام قومی اور مادی جھگڑے ختم کر دے ۔

مدعو سے قومی نزاع کھڑی کرنا ، مدعو سے مادی مطالبات کرنا، حتی کہ تہذیبی تشخص حاصل کرنے کے نام پر مدعو کے مقابلہ میں احتجاج کی مہم چلانا، یہ سب دعوتی مصالح کے سراسر خلاف ہے ۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو داعی اپنے داخلی عمل کے زور پر حاصل کر سکتا ہے ۔ اور جس چیز کا حصول خود اپنے عمل کے ذریعہ ممکن ہو اس کے لیے مدعو سے احتجاج و مطالبہ کی مہم چلانا دعوتی شریعت میں جائز نہیں ۔ ایسا ہر فعل دعوت کے امکانات کو ذبح کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں وہ نہ اللہ کی نگاہ میں داعی قرار پا سکتے ہیں اور نہ بندوں کی نگاہ میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page