وحی والہام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸
جو ایک مخصوص حلقہ میں گھونسلے بناتی ہیں جو خط استوار پر مغرب میں سینیگال اور مشرق میں کینیا تک پھیلا ہوا ہے، وہ خاص وقتوں میں شمال کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں تاکہ وہ بارش کے موسم سے بچ سکیں:
اگلے صفحہ پر ہم ایک نقشہ دے رہے ہیں۔ یہ نقشہ چڑیوں کے بین براعظمی سفر کو بتا رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ روس اور دوسرے یورپی علاقوں کی چڑیاں کس طرح سرد موسم میں اپنے علاقے سے نکل کر افریقہ اور ایشیا کے گرم علاقوں کی طرف جاتی ہیں۔ اس لمبے سفر میں انھیں تین سمندروں سے واسطہ پیش آتا ہے ۔ انھیں کیسپین سمندر (Caspian Sea) اور بحر اسود (Black Sea) اور بحر متوسط (Mediterranean Sea) کو پار کرنا پڑتا ہے۔ یہ چڑیاں ایسا نہیں کرتیں کہ بے خبری کے عالم میں بس اپنے مقام سے اڑ کر کسی طرف بھی روانہ ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہایت صحت کے ساتھ اس رخ کا تعین کرتی ہیں جو ان کے لیے موزوں ترین ہے۔ وہ نہایت صحت کے ساتھ عین وہ راستے اختیار کرتی ہیں جدھر سے جانے میں انہیں کم سے کم سمندر کے اوپر سے گزرناپڑے۔ کیوں کہ خشکی پر بوقت ضرورت وہ نیچے اتر سکتی ہیں مگر سمندر میں اترنا ان کے لیے ممکن نہیں ۔
اس نقشہ کو دائیں سے بائیں کی طرف دیکھئے ۔ اس میں چڑیوں کا پہلا جھنڈ وہ ہے جو یورپ سے آتے ہوئے وہاں پہنچتا ہے جہاں ان کی راہ میں بحر کیسپین حائل ہے۔ یہاں وہ مڑ جاتی ہیں وہ بحر کیسپین کو کنارے چھوڑتے ہوئے ایک طرف قراقرم کی جانب سے اور دوسری طرف کا کیشیا کی جانب سے پرواز کر کے ایشیا میں داخل ہوتی ہیں اور اپنے مطلوبہ مقامات پر اتر جاتی ہیں۔ یہ چڑیاں ٹھیک یہی معاملہ بحر اسود کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔ چنانچہ ان کا جھنڈ یہاں پہونچ کر دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک حصہ بحر اسود کے مغربی ساحل سے اور دوسرا حصہ مشرقی ساحل سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایشیائی علاقہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues