Al-Risala · February 1987 · page 17

وحی والہام

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۷

سے حاصل کر لی ہوں ۔ یہ خارجی ذریعہ انسان کے لیے دوسروں سے سننا یا دوسروں کی تحقیق کو پڑھنا یا خود بیرونی احوال کا تجربہ کرنا ہے ۔ اگر انسان کو تاریخی طور پر جمع شدہ معلومات سے ، آپس کے تبادلہ خیال سے ، یا تعلیم گاہوں کی تعلیم سے کاٹ دیا جائے تو انسان کچھ بھی نہ کر سکے ۔ مثال کے طور پر الادریسی نے زمین کے گول ہونے کا ابتدائی تصور ہندی نظریہ ۶۰ین (Arin) سے لیا ۔ پھر الادریسی کی کتاب کا لاطینی ترجمہ پڑھ کر یہ فکر کولمبس تک پہونچا ۔ پھر کولمبس کے تجربات سے بعد والوں کے علم میں اضافہ ہوا ۔ یہ سلسلہ ایک کے بعد ایک اسی طرح بڑھتا رہا ۔ یہاں تک کہ جغرافیہ کا علم ترقی کے اس درجہ تک پہونچا جو آج کے انسان کو حاصل ہے ۔ آج جب سمندری جہاز کا ایک کپتان وسیع سمندر میں داخل ہو کر اس ساحل سے اُس ساحل تک اپنا جہاز لے جاتا ہے ۔ یا ہوائی جہاز کا پائلٹ ایک براعظم سے اُڑ کر دوسرے براعظم میں اترتا ہے تو اس عمل کے پیچھے سیکڑوں سال کے انسانی تجربات کا علم شامل ہوتا ہے۔ چڑیاں اس طرح کا کوئی ذریعہ علم نہیں رکھتیں ۔ وہ اس قسم کے ذریعہ معلومات سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں ۔ چڑیوں کے اندر باہم تبادلہ خیال نہیں ہوتا جس طرح انسانوں کے اندر ہوتا ہے ۔ اس بنا پر چڑیوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک چڑیا دوسری چڑیا کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معلومات کو بڑھائے ۔ کوئی چڑیا اپنی معلومات کو کتاب کی صورت میں قلم بند نہیں کرتی کہ دوسری چڑیا اس کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے ۔ اس قسم کی ہر سہولت سے کامل محرومی کے باوجود یہ چڑیاں بالکل انسانوں کی مانند سفر کرتی ہیں ۔ وہ اس درجہ صحت کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتی ہیں جیسے کہ ریڈیائی کنٹرول کے ذریعہ کوئی راکٹ خلا میں چلایا جا رہا ہو ۔

مہاجر چڑیوں کا مطالعہ کرنے والے ایک محقق نے لکھا ہے کہ چڑیوں کی ہجرت کی پروازیں متعین راستوں پر ہوتی ہیں ۔ بعض اوقات لمبے فاصلوں پر حد درجہ عمدہ تعین کے ساتھ : The migration flights of birds follow specific routes, some- times quite well defined over long distances (12/181). افریقہ میں چڑیوں کی مہاجرت کا جو انداز ہے اس میں انوکھا انضباط پایا جاتا ہے ۔ مثلاً بعض چڑیاں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page