وحی والہام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰
ایک ماہرطیور نے لکھا ہے کہ یہ بخوبی طور پر الگ الگ راستے غالباً چڑیوں نے اس لیے اختیار کیے ہیں کہ وہ سمندر کے اوپر لمبی پرواز سے بچ سکیں :
These well-separated routes are probably a result of the stork’s aversion to long flights over water (12/180). اس کے بعد چڑیوں کے تیسرے جھنڈ کا منظر ہے۔ یہ چڑیاں بلغاریہ تک آ کر ترکی کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ پھر شام، لبنان اور فلسطین کے سواحل کا تتبع کرتے ہوئے وہ سوئز تک پہنچتی ہیں۔ یہاں سے وہ مصر کی سر زمین میں داخل ہوتی ہیں اور پھر آگے افریقی علاقوں میں چلی جاتی ہیں ۔
چڑیوں کا چوتھا جھنڈ یونان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جس کی خشکی لمبی نوک کی مانند بہت دور تک سمندر کے اندر چلی گئی ہے۔ یہ چڑیاں یونان اور کریٹ کی خشکی کا سہارا لیتے ہوئے سمندر میں داخل ہوتی ہیں ۔ یہ سمندر کا وہ مقام ہے جو سب سے کم چوڑا ہے۔ وہ اپنے طویل سفر میں سمندر کو عین اس نقطہ پر عبور کرتی ہیں جہاں جغرافی طور پر اس کی چوڑائی سب سے کم ہو جاتی ہے۔ چڑیاں اس راستہ کو واضح طور پر اس لیے اختیار کرتی ہیں کہ انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر پرواز نہ کرنا پڑے۔ یعنی عین وہی وجہ جس کی بنا پر قدیم زمانہ میں انسانی قافلے بیچ سمندر میں اپنی کشتی ڈالنے کے بجائے ’’ آبنائے ‘‘ کے مقام پر سمندروں کو عبور کیا کرتے تھے ۔ چڑیوں کا پانچواں جھنڈ وہ ہے جو آگے بڑھ کر اٹلی کے راستے پر مڑ جاتا ہے۔ وہ اٹلی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے سسلی میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے دائیں اور بائیں سمندر کو چھوڑتا ہوا لمبا راستہ خشکی کے اوپر اوپر طے کرتا ہے اور پھر سسلی کے ساحل سے سمندر میں داخل ہو کر افریقہ میں پہنچ جاتا ہے ، دوبارہ عین اسی مقام پر جہاں سمندر کی چوڑائی سب سے کم تھی چڑیوں کا چھٹا جھنڈ اس نقشہ میں فرانس کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور پھر وہ اسپین کی طرف مڑ کر خشکی کے اوپر اترتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جبرالٹر کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ جہاں وسیع سمندر صرف دس میل چوڑا رہ جاتا ہے۔ یہ چڑیاں سمندر کو عبور کرنے کے لیے اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues