وحی والہام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲
موزوں ترین مقام کا انتخاب کرتی ہیں ۔ وہ یہاں پہنچ کر سمندر میں داخل ہوتی ہیں اور آبنائے جبلرا کو پار کر کے افریقہ کی زمین پر اتر جاتی ہیں ۔
چڑیوں کے یہ اسفار انتہائی حد تک حیرت انگیز ہیں ۔ آج کا ایک انسان جب اس قسم کا طویل سفر کرتا ہے تو وہ بہت سے علوم سے مدد لیتا ہے ۔ مگر چڑیوں کے اندر نہ انسانی ذہن ہے اور نہ علوم سے مدد لینے کا انتظام ۔ پھر چڑیاں کیوں کر اس قسم کے پیچیدہ اسفار میں کامیاب ہوتی ہیں ، ایک ماہر طیور نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے :
Birds have evolved a highly efficient means for travelling swiftly over long distances with great economy of energy (12/179). چڑیوں نے نہایت اعلیٰ درجہ کے ارتقا یافتہ موثر ذریعے دریافت کر لیے ہیں تاکہ وہ لمبے فاصلوں پر کم سے کم طاقت خرچ کر کے بخوبی سفر کر سکیں ۔ مگر یہ محض الفاظ ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چڑیوں کے اندر یا ان کے حالات میں ہرگز ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ چڑیوں نے کسی ارتقائی عمل کے ذریعے یہ صلاحیت اپنے اندر پیدا کی ہے ۔
گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس معاملہ کی توجیہہ کے لیے دو ہی ممکن مفروضے ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان چڑیوں کو یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے جغرافیہ کا اور اس کی خشکی اور تری کا مکمل علم حاصل ہو ۔ مگر کوئی بھی تحقیق ایسا ثابت نہیں کرتی ۔ ہماری تمام معلومات کے مطابق چڑیاں بذاتِ خود کسی بھی قسم کے جغرافی علم سے قطعاً نابلد ہیں ۔ اس مفروضہ کو ثابت کرنے کے لیے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ محض بے بنیاد قیاس ہے جس کے حق میں کوئی علمی شہادت موجود نہیں ۔ اس کے بعد دوسرا ممکن مفروضہ صرف یہ ہے کہ کوئی " واقفِ جغرافیہ " ان کی رہنمائی کر رہا ہو ۔ یہاں کوئی مخفی قسم کا ریموٹ کنٹرول ہو جو چڑیوں کو ٹھیک اسی طرح مسلسل رہنمائی دے رہا ہو جیسے ہمارے غیر انسان بردار راکٹ کو ریڈیائی کنٹرول کے ذریعہ دور سے رہنمائی دی جاتی ہے ۔ یہی دوسری صورت زیادہ قرین قیاس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اس عقیدہ کو پوری طرح قابل فہم بنا دیتا ہے جس کو آسمانی مذہب میں وحی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جانوروں کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ یہ مانا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues