نادانی کا کلمہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
نادانی کا کلمہ
اخبارات میں ایک کیس شائع ہوا ہے۔ یہ نادرہ بیگم قریشی کا کیس ہے ۔ وہ بلاسپور (مہاراشٹر) کی رہنے والی ہے۔ اس کے شوہر نے ایک لڑکی کی پیدائش کے بعد اس کو طلاق دے دیا۔ اب وہ عدالت کے ذریعہ اپنے سابقہ شوہر سے گزارہ وصول کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا یکم مئی ۱۹۸۶ء کی رپورٹ کے مطابق جب نادرہ بیگم قریشی سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں اندور کی شاہ بانو کے راستہ پر چل رہی ہے اور فوجداری قانون کی دفعہ ۱۲۵ کے تحت اپنے لیے گزارہ وصول کرنا چاہتی ہے (جب کہ یہ اسلام کے خلاف ہے) تو اس نے تیزی سے جواب دیا کہ اسلام نے میرے لیے کیا کیا ہے کہ میں اس کے اصولوں کی پابندی کروں۔ نہ جج اور نہ وکیل اس میں کامیاب ہو سکے کہ وہ مسز قریشی کو اپنا مقدمہ واپس لینے پر راضی کر سکیں ۔ اس نے مسٹر قریشی کی اس پیش کش کو بھی رد کر دیا کہ وہ اس کو اور اس کی لڑکی کو دوبارہ واپس لینے پر تیار ہیں۔ اس نے پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس کو پانچ سو روپیہ ماہوار گزارہ دلائے۔ مسز شاہ بانو کے برعکس وہ ابھی جوان (۳۰ سال) ہے اور اس نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔
"What has Islam done for me that I should follow its tenets? shoots back Mrs Nadira Begum Qureshi when asked why she is following in the footsteps of Mrs Shah Bano of Indore and seeking maintenance allowance under Section 125, Cr. P.C. Neither the judge nor lawyers could persuade Mrs Qureshi to withdraw her case. She rejected Mr Qureshi's offer to take her and her daughter back. The offer rejected, she called upon the court to get her Rs 500 a month as allowance. Unlike Mrs Shah Bano, she is young (30) and educated (Graduate). یہ ایک نادان عورت کا کلمہ ہے نہ کہ واقف کار عورت کا کلمہ ۔ مذکورہ خاتون اگر تاریخ سے واقف ہوتی تو وہ جانتی کہ عورت کو جو کچھ ملا ہے اسلام ہی کے ذریعہ ملا ہے۔ حتی کہ ایک عورت کا کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ ”اسلام نے میرے لیے کیا کیا ، یہ بھی اسلام ہی کا عطیہ ہے۔ اسلام سے پہلے عورت کو یہ درجہ ہی حاصل نہ تھا کہ وہ سر عام اس طرح آزادی کا کلمہ کہہ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues