وحی والہام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
جائے کہ ان کو ایک خارجی خزانہ علم سے رہنمائی مل رہی ہے ۔ اسی کا نام مذہبی زبان میں وحی ہے ۔ جانوروں کی زندگی کا مطالعہ وحی کے معاملہ کو قابلِ فہم بنا دیتا ہے ۔ اور قرائن کے ذریعہ کسی چیز کا قابلِ فہم ہونا ہی کافی ہے کہ اس کی واقعیت وصداقت پر یقین کیا جائے ۔ وحی کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنے مخفی ذریعہ سے ایک انسان پر اپنی رہنمائی بھیجتا ہے ۔ یہ رہنمائی بتاتی ہے کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ خدا اور بندہ (پیغمبر) کے درمیان وحی کا یہ اتصال بظاہر دکھائی نہیں دیتا ، اس لیے کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیوں کر اسے مانیں ۔
مگر دوسری مخلوقات ، مثلاً مہاجر چڑیوں کے سفر کے معاملہ پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ”وحی“ کی نوعیت کی رہنمائی موجود ہے ۔ ان چڑیوں کا حد درجہ صحت کے ساتھ سفر کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بنا دیتا ہے ۔ کیوں کہ چڑیوں کے ان اسفار کی کوئی بھی حقیقتی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو خارج سے کوئی مخفی قسم کی رہنمائی مل رہی ہے ۔ جب چڑیوں کے اپنے اندر اس کے معلوم اسباب موجود نہیں ہیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کو خارج سے آنے والی چیز قرار دیا جائے ۔
پیغمبر کا یہ دعویٰ کہ اس کو خدا کی طرف سے مخفی رہنمائی آتی ہے ، بلاشبہ عجیب ہے۔ مگر اس قسم کی مخفی رہنمائی موجودہ کائنات میں عجیب نہیں ۔ یہاں دوسرے ایسے واقعات کثرت سے موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس قسم کی رہنمائی کائنات میں بطور واقعہ موجود ہے ۔ مہاجر چڑیوں کا معاملہ ان بے شمار مثالوں میں سے صرف ایک مثال ہے جس کو نہایت مختصر طور پر یہاں بیان کیا گیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues