Al-Risala · February 1987 · page 26

ایک سفر پہلی قسط

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

ایک سفر پہلی قسط

مذہبی آزادی کی عالمی کونسل (The World Council on Religious Liberty) کا صدر دفتر نیو یارک (امریکہ) میں ہے ۔ اس کے زیر اہتمام ۱۳ ۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو جنیوا (سوئزر لینڈ) میں ایک بین اقوامِی کانفرنس ہونے والی تھی۔ اس کا ابتدائی دعوت نامہ (مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۸۶) مجھے پہلے ملا تھا۔ مگر اس وقت جنیوا کا سفر کرنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔ اس لیے میں اس دعوت نامہ کو قبول نہ کر سکا اور معذرت نامہ لکھ کر بھیج دیا۔

میں اپنی مشغولیتوں میں اس کانفرنس کو بھول چکا تھا کہ نومبر کے تیسرے ہفتہ میں رات کے وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ ادارہ کے ذمہ دار نیو یارک سے بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعض اسباب سے کانفرنس کی تاریخیں ملتوی ہوگئی تھیں۔ اب یہ کانفرنس ۷۔ ۹ دسمبر ۱۹۸۶ء کو جنیوا میں ہو رہی ہے۔ کیا آپ اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ اس کا جواب ہم آپ کو چند دن کے بعد دے سکیں گے۔ چنانچہ ، نومبر کو دوبارہ ان کا ٹیلی فون آیا تو میں نے شرکت کے لیے رضامندی دیدی۔ اس کے بعد نیو یارک سے بار بار ان کے ٹیلی فون آتے رہے۔ چوں کہ وقت کم تھا ، وہ کانفرنس کی تمام تفصیلات ٹیلی فون پر بتاتے رہے۔

ان کا ٹیلی فون اکثر نصف شب کو آتا تھا۔ وہ خود اگر چہ دن کے ” ۱۲ بجے “ ٹیلی فون کرتے تھے ۔ مگر وہ ہم کو رات کے ” ۱۲ بجے “ وصول ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہاں سے یہاں تک ٹیلی فون کے پہونچنے میں ۱۲ گھنٹہ لگتا تھا۔ ٹیلی فون تو دنیا کے کسی بھی حصہ میں ایک سیکنڈ سے بھی کم مدت میں پہونچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس وقت امریکہ میں نصف دن (دوپہر) کا وقت ہوتا ہے ، اس وقت ہندوستان میں نصف شب کا وقت ہوتا ہے۔ وہ اپنے لحاظ سے دن کے ” ۱۲ بجے “ ٹیلی فون کرتے تھے۔ مگر دہلی میں ہم کو ان کا ٹیلی فون رات کے ” ۱۲ بجے “ ملتا تھا۔ ایک ملک اور دوسرے ملک میں وقت کا یہ فرق در اصل زمین کی محوری گردش کے سبب سے پیدا ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page