Al-Risala · February 1988 · page 47

Muslims and the Science Education

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ الرسالہ کا مخالف بھی اس کو پڑھے بغیر نہیں رہتا۔ اس کی مثالیں مختلف صورتوں میں بار بار سامنے آتی رہتی ہیں۔ جناب عبدالحمید عمر بھائی اپنے خط (۲۵ نومبر ۱۹۸۷) میں لکھتے ہیں: بہت سے رسالے نکلتے ہیں اور ان کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے مگر اسلامی مرکز کا الرسالہ ابتک نظر سے نہیں گزرا تھا اور ہمارے بھاو نگر (گجرات) میں شاید کوئی اس کو جانتا بھی نہیں۔ حسن اتفاق سے احمد آباد کے ایک صاحب کے پاس الرسالہ دستیاب ہوگیا اور مطالعہ کیا اور اپنے مدرسہ کے صدر مدرس مولانا امانت اللہ قاسمی کو دیا۔ مطالعہ کے بعد ہم دونوں کو الرسالہ کی کشش نے بیتاب کر دیا اور الرسالہ منگوانے کا داعیہ پیدا ہوا۔ الرسالہ اور تذکیر القرآن کے لیے دومنی آرڈر روانہ ہے۔ ۱۴- ایک صاحب لکھتے ہیں: میرے اندر غصہ پن اور کسی بھی بات کو اپنے مزاج کے خلاف پانے کے بعد بالکل آپے سے باہر ہو جانے کا مزاج تھا۔ لیکن آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد میرے اندر زبردست تبدیلی آئی جس کو گھر والے اور احباب بھی محسوس کرتے ہیں۔ میرے والد جو تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کی کتابوں کے بڑے مداح ہیں اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ ابھی میں "اللہ اکبر" لے کر بیٹھا ہوں۔ یہ رہ رہ کر آپ کا تصور ذہن میں آ رہا تھا۔ کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے ایک دعا ضرور کرتا ہوں۔ اسی طرح نمازوں کے بعد دعا میں بھی آپ کے لیے دعائے خیر ضرور کرتا ہوں۔ یہاں کچھ لوگوں سے میرا کبھی کبھی الجھاؤ ہو جاتا ہے ۔ اور موضوع بحث آپ کی تصانیف ہوا کرتی ہیں۔ جب تک وہ اپنی باتوں کو دلیل سے پیش کرتے ہیں میں بھی دلیل سے ان کی تردید کرتا ہوں ۔ مگر جب وہ بغیر دلیل بحث کرتے ہیں تو میں خاموش ہو جاتا ہوں، کیوں کہ آپ کی کتابوں میں میں نے یہی پڑھا ہے۔ بہر حال حقیقت اپنا لوہا منوا لیتی ہے ۔ اب وہ بھی نرم پڑر ہے ہیں۔ نومبر کے شمارہ میں " آزمودہ حل " پڑھ کر کئی نے تو کھل کر تائید کی اور کہا کہ اب تو الرسالہ کے نظریات سے اتفاق کرنا پڑے گا (قاری مختار احمد علی - مالیگاؤں) ۱۵- تذکیر القرآن جلد دوم اور گارڈازائرز (انگریزی) چھپ کر دفتر میں آگئی ہیں۔ طالب حضرات فرمائش بھیج کر منگا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page