ماضی اور حال کا فرق
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳
ماضی اور حال کا فرق
پروفیسر ہولٹ (P. M. Holt) اور دوسرے مستشرقین نے اسلامی تاریخ پر ایک کتاب تیار کی ہے جو حسب ذیل نام سے چار جلدوں میں شائع ہو چکی ہے : The Cambridge History of Islam اس کتاب کی جلد ۲ ۔ بی کے ایک باب میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ماضی میں ا نے مغربی دنیا کے علوم اور تہذیب پر نہایت گہرے اثرات ڈالے۔ اس کا عنوان ہے : Literary impact of Islam on the modern West اس باب کے آخر میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ قرونِ وسطی کے دوران علم کا بہاؤ تقریباً تمام ترمشرق سے مغرب کی طرف تھا، جب کہ اسلام مغرب کا معلم بنا ہوا تھا، اب موجودہ زمانہ میں صورتحال اس کے برعکس ہے ، اب یہ بہاؤ مغرب سے مشرق کی طرف جاری ہے :
Whereas during the Middle Ages the trend was almost entirely from East to West (when Islam acted as the teacher of the West), in modern times the direction of influence has been reversed (pp. 888 - 89). ماضی میں مسلمان دنیا کے معلم تھے ، موجودہ زمانہ میں وہ دنیا کے شاگرد بن گئے۔ ا فرق میں اس سوال کا جواب چھپا ہوا ہے کہ مسلمان ماضی میں قوموں کے درمیان با عزت کیوں اور حال میں وہ قوموں کے درمیان بے عزت کیوں ہو گئے ہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں صرف ایک کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی محرومی پرا کرنے میں مشغول ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا کے قانون کو موجودہ زمانہ بدل دیا ہے ۔ پچھلے زمانہ میں اگر یہ قانون تھا کہ دینے والا پائے ، تو اب یہ قانون ہے کہ اور مطالبہ کرنے والوں کو دیا جائے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا کے قانون کو نہیں بدلا ہے تو مسلمانوں کا موجودہ مشغلہ صرف ان بربادی میں اضافہ کرنے والا ثابت ہو گا۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues