دو قسم کے لوگ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۴
دو قسم کے لوگ
جسم کے اوپر کیچڑ لگ جائے تو اس کو پانی سے دھویا جاسکتا ہے ۔ لیکن اگر جسم کے اندر کوئی اندرونی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کو دھو کر صاف کرنا ممکن نہیں ۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے ۔ اگر آدمی اوپری طور پر کسی دینی خرابی میں مبتلا ہو تو اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا ۔ مگر جن کے گناہوں نے جسم سے لے کر روح تک ان کا احاطہ کر لیا ہو ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کےیہاں معافی نہیں ۔
ایک برائی وہ ہے کہ جب آدمی اس کو کرے تو اس کا دل اس کا ساتھ نہ دے۔ اس کو یہ احساس ستا تا رہے کہ وہ گناہ کر رہا ہے ۔ اپنے اس فعل کی بنا پر اس کو خود اپنے آپ سے نفرت ہو جائے ۔ وہ شرمندہ ہو کر معافی چاہے اور شیطان سے پناہ مانگتا ہوا اللہ کی طرف دوڑ پڑے ۔ ایسے آدمی کی اندرونی حالت اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کا گناہ اوپری گناہ تھا ۔ وہ اس کی روح کا حصہ نہ تھا ۔ اس کی برائی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے جسم کا اندرونی نظام تو صحت مندتھا ۔ البتہ اس کے جسم کے اوپر کسی وجہ سے گندگی لگ گئی ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے تزکیہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو پاک فرمائے گا ۔ اور آخرت میں ان کو اس قابل بنا دے گا کہ وہ جنت کی پاکیزہ دنیا میں آباد ہو سکیں ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی برائی ان کے اندر تک داخل ہوگئی ہو ۔ ان کے اعضاء جو کچھ کریں وہ ان کے دل و دماغ کا سوچا سمجھا منصوبہ ہو۔ ان کا فعل محض وقتی جذبے کے تحت صادر نہ ہوا ہو اس کے پیچھے حسد، بغض ، کبر ، انتقام، اور سرکشی جیسے اندرونی جذبات کام کر رہے ہوں ۔ ان کے ظاہری عمل میں ان کے اندرونی احساسات پوری طرح شریک ہوں ۔ ایسے لوگوں کی خرابی اوپرتی خرابی نہیں ، بلکہ ان کی شخصیت میں آخری گہرائی تک اتری ہوئی ہے ۔ اس قسم کے لوگ تزکیہ خداوندی سے محروم رہیں گے ، وہ آخرت میں جہنم کے مستحق قرار پائیں گے ۔
پہلی قسم کے لوگ دنیا ہی میں اپنا حساب آپ کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ آخرت کے حساب سے بچ جائیں گے ۔ دوسری قسم کے لوگ دنیا میں اپنے حساب سے غافل ہوتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں پکڑے جائیں گے ۔ اور جو شخص آخرت میں پکڑا جائے اس کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues