اعلان ، اقدام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۶
اعلان ، اقدام
حق کا اعلان ہر حال میں مطلوب ہے ، خواہ سننے والا اس کو سنے یا نہ سنے ، خواہ مخاطب اس کو مانے یا نہ مانے ۔ مگر حق کے لیے ععملی اقدام کا معاملہ سراسر مختلف ہے ۔ وہ نتیجہ کی شرط کے ساتھ مشروط ہے ۔ اگر نتیجہ نکلنے کا یقینی امکان ہو تو اقدام کیا جائے گا ۔ ورنہ اقدام سے باز رہ کر صرف صبر کیا جاتا رہے گا ۔
اعلان اور اقدام کا یہ فرق قرآن وسنت میں واضح طور پر ملتا ہے ۔ مثلاً قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کو حق بات کی یاد دہانی کراؤ۔ تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو ۔ تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو ۔ (الغاشیہ ) یعنی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے ، ہر حال میں تبلیغ حق کا کرتے رہو ۔ تمہارا کام پہنچا دینا ہے ، نتیجہ نکالنا تمہارے ذمہ نہیں ۔ یہ وہ بات ہے جو تبلیغ بارہ میں کہی گئی ۔
دوسری طرف روایات میں آتا ہے کہ مکہ کے زمانے میں حضرت ابوبکر نے عملی اقدام کی بات تو آپ نے فرمایا : یا ابا بکر انا قلیل (اے ابو بکر ہم تھوڑے ہیں ) ، اسی طرح حضرت عمر نے عملی اقدام کے لیے کہا تو آپ نے دوبارہ فرمایا : یا عمر انا قلیل (اے عمر ہم تھوڑے ہیں ) ابن کثیر ، جلد اول ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ قلت تعداد اور قلت وسائل کی وجہ سے ابھی ہم اس حالت میں نہیں ہیں کہ فریق ثانی کے خلاف اقدام کر کے کوئی واقعی نتیجہ برآمد کر سکیں ۔ اس لیے ابھی ہم کوئی ملی اقدام نہیں کریں گے ۔ ابھی ہم پیغام رسانی پر قانع رہ کر بقیہ امور میں صبر کی روش پر قائم رہیں گے ۔
بولنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے ۔ اسی طرح ضروری ہے کہ آدمی کرنے سے پہلے کرنے کی تیاری ، جو شخص سوچے بغیر بولے وہ فضول گوئی کا مرتکب ہو گا ۔ اسی طرح جو شخص ضروری تیاری کے اقدام کرے ، اس کا اقدام نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا ۔ ایسا اقدام ایک قسم کی خود کشی ہے ۔ وہ موت چھلانگ ہے نہ کہ زندگی کی طرف سفر ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues