Al-Risala · March 1988 · page 5

ایک شہادت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۵

ایک شہادت

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مقالہ ہے، اس کے میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بہت کم بڑے لوگ اتنا زیادہ بدنام کیے گیے ہیں جتنا کہ محمد کو بدنام کیا گیا۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے مسیحی علماء نے ان کو فریبی اور عیاش اور خونی انسان کے روپ میں پیش حتیٰ کہ آپ کے نام کا ایک بگڑا ہوا تلفظ مہاونڈ (نعوذ باللہ) شیطان کے ہم معنی بن گیا۔ محمد اور ان مذہب کی یہ تصویر اب بھی کسی قدرخت اپنا اثر رکھتی ہے۔ انگریز مصنف ٹامس کارلائل پہلا قابل مغربی شخص تھا جس نے ۱۸۴۰ میں بتاکید عوامی طور پر کہا کہ محمد یقیناً سنجیدہ تھے کیوں کہ یہ فرض بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک فریبی آدمی ایک عظیم مذہب کا بانی ہو سکتا ہے ؛ مغربی پروپیگنڈے کی تردید کے لیے ٹامس کارلائل نے یہاں جو دلیل استعمال کی ہے، کسی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ درست اور یقینی ہے۔ در اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح انسان اپنے کردار سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص السلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پڑھے، جو یہ دیکھے کہ روز و شب آپ کن سرگرمیوں میں مصروف تھے اور یہ کہ آپ کے اثر سے کس قسم کی تحریک برپا ہوئی، وہ ہرگز یقین نہیں کر سکتا کہ یہ سب ایک فریبی انسان کا کارنامہ ہے۔

ایک شخص جس کے کلام میں تعمیر انسانیت کی باتیں ہوں، جس کا لہجہ درد اور سوز سے ہو، جس کے مشن سے لوگوں کی زندگیوں میں صالح انقلاب آرہا ہو، وہ کبھی فریبی انسان نہیں ہو فریبی انسان ایک فریبی تحریک اٹھا سکتا ہے نہ کہ ایک صالح ربانی تحریک۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page