Al-Risala · March 1988 · page 10

زاویہ نظر کی غلطی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰

زاویہ نظر کی غلطی

منشی پریم چند (۱۹۳۶ - ۱۸۸۰) کو ناول نگاری میں اگرچہ غیر معمولی مقام ملا مگر وہ نہایت سادہ مزاج کے آدمی تھے۔ اور شہرت سے بہت دور رہنا چاہتے تھے۔ ان کے ایک دوست مسٹر جے نند کمار لکھتے ہیں کہ پریم چند کو میں نے پایا کہ وہ بڑے بننے کے پیچھے نہیں ہیں، سچا بننا ان کا مقصد ہے۔ میں نے انھیں بار بار دیکھا ہے وہ دھوم دھام کے آدمی نہیں تھے ۔ وہ ہمیشہ کسی اور گہری سچائی کے خواہاں رہتے تھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک لٹریری کانفرنس میں صدر بنا کر پر یم چند کو دہلی بلایا۔ لیکن وہ آنے کو راضی ہی نہ ہوتے تھے۔ خط لکھا، تار دیے لیکن انھوں نے لکھا، تم ذاتی طور پر بلاؤ تو آجاؤں لیکن کانفرنس کی تہمت کیوں دیتے ہو ۔ آخر رضا مندی دی بھی تو تار میں لکھا : Reaching the protest مسٹر جے نند کمار لکھتے ہیں کہ ایک بات پر اکثر ان کے ساتھ میری بات چیت ہوئی اور وہ ہے ایشور اور دھرم ۔ وہ ایشور کے وجود کے قائل نہیں تھے۔ کیوں کہ وہ دیکھتے تھے کہ ایشور اور دھرم اچھے سے زیادہ برے کام میں لائے جاتے تھے۔ وہ پوچھتے، دنیا میں زور ہے ، ظلم ہے ، لوگ ستائے جاتے ہیں اور بھوکوں مرتے ہیں ۔ چاروں طرف دکھ کی چیخ پکار ہے تم اس ایشور کو مانو گے جو اس سب کی اجازت دیتا ہے ۔ وہ مصیبت زدوں کی حالت دیکھ کر خدا کے منکر ہو جاتے تھے (کیا خوب آدمی تھا) منشی پریم چند نہایت نیک مزاج آدمی تھے مگر دنیا کے حالات کو انھوں نے صحیح رخ سے نہ دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حالات کی معنویت کو سمجھ نہ سکے اور خدا کے منکر ہو گئے ۔ موجودہ دنیا کو سمجھنے کا راز یہ ہے کہ اس کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ وہ ” دار الامتحان " ہے۔ یہی موجودہ دنیا کو دیکھنے کا صحیح زاویہ ہے اور کسی چیز کا مطالعہ اسی وقت صحیح ہوتا ہے جب کہ اس کو صحیح زاویہ سے دیکھا جائے ۔ موجودہ دنیا کو آخرت سے الگ کر کے دیکھا جائے تو مذکورہ نقطہ نظر درست نظر آئے گا۔ لیکن اس کو آخرت سے ملا کر دیکھیے تو موجودہ خرابیاں معقول معلوم ہونے لگتی ہیں۔ کیوں کہ دارالامتحان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو عمل کی آزادی ہو۔ اور جب تمام لوگوں کو آزادی ہوگی تو کوئی صحیح کرے گا اور کوئی غلط، اور پھر وہی صورت حال پیش آئے گی جو موجودہ حالت میں، دنیا میں دکھائی دے رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page