Al-Risala · March 1988 · page 11

ایمانی کرار

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

ایمانی کرار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ کی بات ہے۔ لوگ نماز کے لیے مسجد میں اکٹھے تھے۔ جماعت کا وقت ہو گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی شدت کی وجہ سے حجرہ سے باہر تشریف نہ لاسکے۔ اس وقت حضرت ابو بکر بھی مسجد میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن زمعہ اور دوسرے لوگوں نے اصرار کر کے حضرت عمر کو امامت کے لیے آگے کر دیا۔

حضرت عمر نہایت بلند آواز تھے۔ جب انھوں نے " اللہ اکبر" کہہ کر نماز شروع کی تو ان کی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ تک پہنچ گئی۔ آپ نے سن کر فرمایا : ابو بکر کہاں ہیں۔ اللہ اور مسلمان اس پر راضی نہیں، د این ابو بکر ، یأبى الله ذلك والمسلمون ) اس کے بعد آپ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو بکر بلائے گیے ، اور حضرت عمر کے بجائے انھوں نے نماز پڑھائی۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرہ میں تھے۔ چونکہ اسی امامت نماز پر آئندہ خلافت حکومت کا فیصلہ ہونے والا تھا ، اس لیے حضرت عمر یہ سوچ سکتے تھے کہ ان کو خدانخواستہ کسی "سازش " کے تحت امامت کے مقام سے ہٹایا گیا ہے ، اور اس سازش کا اصل دماغ عائشہ ہیں جو حضرت ابو بکر کی صاحبزادی ہیں۔ انھوں نے اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ بنانے کے لیے یہ ڈرامہ کروایا ہے۔

مگر حضرت عمر کا خوفِ خدا اس میں مانع تھا کہ وہ اس قسم کی بدگمانی کو اپنے دل میں جگہ دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ عمر نے ابو بکر پر کسی قسم کا الزام نہیں لگایا (كان عمر غير متهم علی ابی بکر ، سیرة النبی لابن هشام ، الجزء الرابع ، صفحه ۳۲ )

کسی گروہ کو متحد رکھنے اور اس کی اجتماعی زندگی کو مستحکم بنیاد پر قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر ایک دوسرے کے بارہ میں حسن ظن پایا جاتا ہو۔ مضبوط اجتماعیت کے لیے حسن ظن اتنا ہی ضروری ہے جتنا مضبوط تعمیر کے لیے سیمنٹ ۔ دورِ اول کے مسلمان اپنی اسی خصوصیت کی بنیاد پر کامل اتحاد کا نمونہ تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اس خصوصیت کو کھو دیا ہے ، اسی لیے وہ اجتماعیت اور اتحاد کو بھی کھوئے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page