الله اکبر
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳
الله اکبر
اس کائنات کی اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اس کا ایک خالق ہے، اور یہ خالق سب سے بڑا ہے۔ اس سے بڑا اور کوئی نہیں ۔ اذان اور نماز میں بار بار الله اکبر کہنا اسی سب سے بڑی سچائی کا مسلسل اعلان ہے۔ اذان اور نماز کے ذریعہ گویا ہم کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ۔
سب سے بڑی حقیقت کا اعتراف کوئی معمولی چیز نہیں ۔ یہ خود اپنے آپ کو سب سے بڑے مقام کا مستحق بنانے کے ہم معنی ہے ۔ مغرب نے اس کا اعتراف کیا کہ کائنات سب سے بڑی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب کو تمام قوموں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ بڑی حیثیت حاصل ہو گئی۔ پھر جو لوگ کائنات کے خالق کی بڑائی کو پالیں، ان کا حال کتنا عظیم ہونا چاہیے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان ہر جگہ کمزور اور مغلوب ہیں۔ ہمارے حق میں "الله اکبر" کی وہ برکتیں ظاہر نہیں ہوتیں جو مغرب کے حق میں " الکون اکبر" کہنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے الله اکبر کے الفاظ کو پایا۔ مگر ہم نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا۔ ہم الله اکبر کے الفاظ فضا میں بکھیرتے ہیں۔ مگر خود اپنے اندر اسے داخل نہیں کرتے ۔
میں نے ایک عربی اخبار میں ایک مضمون پڑھا ۔ اس کا عنوان تھا : الله اکبر في سماء لندن (لندن کی فضا میں الله اکبر کی آواز ) یہ لندن کی جامع مسجد کا تعارف تھا۔ مضمون کے ساتھ لندن کی نو تعمیر عظیم مسجد کی تصویر تھی اور دکھایا گیا تھا کہ یہاں سے ہر روز پانچ وقت " الله اکبر " کی آواز لاؤڈ اسپیکر پر بلند کی جاتی ہے جو لندن کی فضاؤں میں گونجتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی ایجاد نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم آسمان تک الله اکبر کی آواز کو پہنچادیں، مگر خود اپنے سینہ کے اندر ہم الله اکبر کی آواز کو نہ پہنچا سکے ۔ آلہ مکبر الصوت کے ذریعہ ہم نے بلند فضاؤں میں الله اکبر کا ارتعاش پیدا کر دیا۔ مگر اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے ابھی خدا کے فرشتے انتظار کر رہے ہیں جب کہ خدا کی کبریائی کا احساس ہمارے دلوں میں ارتعاش پیدا کر دے ۔ یہی وجہ ہے کہ الله اکبر کی برکتوں میں سے کوئی برکت ابھی تک ہمارے حق میں ظاہر نہیں ہوئی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues