Al-Risala · March 1988 · page 42

وہ نہیں دیکھتے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

وہ نہیں دیکھتے

وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ۔

(الاعراف ۱۹۸)

اور (اے پیغمبر)، اگر تم ان (مشرکین) کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ نہیں سنیں گے۔ اور تم کو نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں ، اور وہ تم کو نہیں دیکھتے۔ اس آیت میں ضمیر غائب اہل کفر و شرک کی طرف راجع ہے اور ضمیر مخاطب کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ حضرت حسن نے آیت کی تشریح اسی کے مطابق کی ہے : قال الحسن معنى الآية إن تدعوهم یعنی المشركين حسن نے کہا، آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مشرکین الى الاسلام لا يسمعوا ای لا يعقلون ذالك کو اسلام کی طرف بلاؤ تو وہ نہیں سنیں گے۔ بقلوبهم وتراهم ينظرون اليك باعينهم وهم یعنی وہ اس کو دل سے نہیں سمجھتے۔ تم دیکھتے ہو لا يبصرون بقلوبهم کہ وہ اپنی آنکھوں سے تمہاری طرف دیکھ رہے ر (التفسير المظهري ، المجلد الثالث ، صفحه ۴۴۵ ) ہیں مگر وہ اپنے قلوب سے نہیں دیکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے لوگوں کے لیے بظاہر انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔

اس وقت آپ کے نام کے ساتھ وہ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں جو آج جمع ہو چکی ہیں اور جن کی وجہ سے آج ہر آدمی آپ کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس وقت آپ کو پہچاننے کے لیے اندرونی جوہر کو دیکھنے والی نگاہ درکار تھی۔ چنانچہ جن لوگوں کے پاس یہ نگاہ تھی انہوں نے اسی وقت آپ کو پہچان لیا اور آپ کے ساتھی بن گئے ، مگر جو لوگ اس قسم کی نگاہ سے محروم تھے وہ آپ کو پہچان نہ سکے اور آپ کے منکر بن گئے ۔ ایک ہے ظاہری رونقوں کی بنیاد پر کسی کو جاننا۔ دوسرا ہے ، اندرونی جوہر کی بنیاد پر کسی کا قدر داں بننا جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کو دیکھ سکتے ہوں وہ ایسے کسی انسان کی قدر دانی نہیں کرسکتے جو باطنی حقیقتوں کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو۔ وہ بظاہر اسے دیکھیں گے مگر وہ اس کو پہچاننے والے نہیں بنیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page