ممکن اور نا ممکن
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰
ممکن اور نا ممکن
سابق وزیر اعظم ہند لال بہادر شاستری جنوری ۱۹۶۶ میں انتقال کر گئے۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی نے مسز اندرا گاندھی کو وزیر اعظم بنایا۔ تاہم مرار جی ڈیسائی سے ان کی کش مکش جاری رہی۔ کیوں کہ وہ خود وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔ ۱۹۶۷ کے الیکشن کے بعد مرار جی ڈیسائی کو نائب وزیر اعظم بنایا گیا۔
مگر مرار جی ڈیسائی نائب وزیر اعظم کے عہدہ کو اپنے لیے کمتر سمجھتے تھے۔ چنانچہ کش مکش بدستور جاری رہی۔ سابق وزیر اطلاعات مسٹر اندر کمار گجرال نے لکھا ہے کہ ۱۹۶۹ میں مسز اندرا گاندھی نے ان کے ذریعہ مرار جی ڈیسائی کو یہ پیش کش کی کہ ان کو مزید اعزاز دے کر راشٹریتی (پرسیڈینٹ) کا عہدہ دیدیا جائے۔ مسٹر گجرال کا بیان ہے کہ جب انھوں نے یہ پیش کش مرار جی ڈیسائی کے سامنے رکھی تو بلا تاخیر ان کا جواب یہ تھا :
Why not she herself?
اندرا گاندھی خود کیوں نہیں (ٹائمس آف انڈیا ۱۲ جولائی ۱۹۸۷) یعنی اندرا گاندھی خود پریڈینٹ بن جائیں اور مجھے وزیر اعظم بنا دیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مرار جی ڈیسائی کانگریس سے الگ ہو گئے۔ انھوں نے وزیر اعظم بننے کے لیے سارے ملک کو الٹ پلٹ ڈالا۔ مارچ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں جنتا پارٹی کی جیت کے بعد وہ مختصر مدت کے لیے وزیر اعظم بن بھی گئے۔ مگر جلد ہی بعد وہ سیاسی زوال سے دوچار ہوئے اور پھر کبھی ابھر نہ سکے۔
مرار جی ڈیسائی کی سیاسی ناکامی کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ ممکن کو چھوڑ کر نا ممکن کی طرف دوڑے۔ اگر وہ اس راز کو جانتے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے جو آخری ممکن چیز ہے وہ صدارت ہے نہ کہ وزارت عظمیٰ، تو یقیناً وہ ذلت اور ناکامی سے بچ جاتے۔ مگر نا ممکن کے پیچھے دوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔ ناممکن کے پیچھے دوڑنا، آدمی کو ممکن سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ جب کہ ممکن پر قانع رہنے والا ممکن کو بھی پاتا ہے اور بالآخر نا ممکن کو بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues