معذوری کے باوجود
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱
معذوری کے باوجود
میں نے ۱۹۸۲ میں اپنا پاؤں کھو دیا تھا۔ اور اسی وقت سے میں دنیا کے گرد سمندری سفر کرتا رہا ہوں۔ یہ بات ٹرسٹن جونز نے تھائی لینڈ کے معذور بچوں کے ایک گروپ سے بینکاک میں کہی۔ وہ ایک ملاح اور مصنف اور مہم جو ہیں۔ ان کا پیغام بہت واضح تھا؛ آپ یہ انتظار نہ کریں کہ دوسرے لوگ آپ کی مدد کریں۔ آپ کو اپنی مدد آپ کرنے کا فن سیکھنا چاہیے اور خود اپنے طریقہ پر کام کرنا چاہیے، باریش کیپٹن نے کہا۔ ۵۳ سالہ جونز ۱۹۵۲ سے اپنے طریقہ پر غیر معمولی کام کرتے رہے ہیں جب کہ وہ برطانیہ کے شاہی بحریہ سے یہ کہہ کر الگ کر دیے گیے تھے کہ وہ جسمانی طور پر سمندر کے لیے غیر موزوں ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی ڈیوٹی کرتے ہوئے ان کے ایک پاؤں کو زخم لگا تھا۔ یہ حادثہ بالآخر انہیں معذور قرار دینے تک پہنچا اور ۱۹۸۲ میں ان کا بایاں پاؤں گھٹنے کے اوپر سے کاٹ دیا گیا۔ ۱۹۵۳ سے مسٹر جونز دنیا کے سامنے یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ وہ کچھ اور ہو سکتے ہیں مگر وہ جسمانی طور پر سمندر کے لیے غیر موزوں ہرگز نہیں۔ پچھلے ۳۴ سالوں میں انھوں نے ۶ لاکھ ۴۰ ہزار کلومیٹر کا بحری سفر کیا ہے۔ انھوں نے بیس بار اٹلانٹک سمندر کو پار کیا ہے اور کرہ ارض کے گرد تین بحری سفر مکمل کیے ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues