Vijai Lakshmi Pandit, The Scope of Happiness
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۱۷
ایک سفر
ڈیو گوارشیا سے لے کر لکا دیپ تک سمندر میں جگہ جگہ چٹانی ابھار اس طرح پھیلا ہوا ہے جیسے کسی نے انتھاہ پانی کے درمیان لکڑی کے بہت سے تنے ڈال دئے ہوں۔ اسی لمبے سلسلہ کے درمیان وہ ’’ملک‘‘ ہے جس کو جزائر مالدیپ کہتے ہیں۔ یہ جزائر ہندوستان کے جنوبی ساحل سے تقریباً ۴۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔
مالدیپ کے بارہ میں راقم الحروف نے سب سے پہلے الجمعیۃ ویکلی ۲۹ مارچ ۱۹۷۴ء میں ایک مفصل مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : مالدیپ کا رقبہ صرف 300 مربع کلومیٹر ہے، مگر کلیدی محل وقوع کی وجہ سے وہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر برطانیہ نے پہلی بار مالدیپ (مالے) میں ایک ہوائی اڈہ بنایا۔ دوسری عالمی جنگ میں فوجی اہمیت کے اس ہوائی اڈہ سے برطانیہ نے بہت کام لیا تھا۔ بحر ہند کے درمیان اس ہوائی اڈہ کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ انگریز واقعتاً دور رس نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے وہ دنیا کے اتنے بڑے رقبہ پر حکومت کرنے میں کامیاب ہوسکے۔
الجمعیتہ کے اس مضمون میں راقم الحروف نے مزید لکھا تھا : جزائر مالدیپ کی پوری آبادی مسلمان ہے۔ یہ پانچ سو سال پہلے کے اس واقعہ کی یادگار ہے جب کہ عرب تاجروں کے ذریعہ اسلام جنوبی ہند کے ساحل سے لے کر سیلون، مشرقی بنگال، ملیشیا اور چین تک پھیل رہا تھا۔ پندرہویں صدی کے آخر میں پرتگالی قافلہ بحر ہند میں آگئے، اور انھوں نے اس علاقہ سے عربوں کی تجارت منقطع کردی۔ اس کے بعد اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت کا کام بھی بند ہوگیا (صفحہ ۱۰) مالدیپ کے لئے میرا پہلا سفر جنوری ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ سفر ایک اسلامی کانفرنس کی دعوت پر تھا جس سفر کی روداد الرسالہ مئی ۱۹۸۳ میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کانفرنس میں مجھے ایک مقالہ ’’جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت‘‘ کے موضوع پر پیش کرنا تھا۔ مقالہ کی تیاری کے لئے کتابوں کی ضرورت تھی ۔ دہلی کے مسلم اداروں میں مجھے اس موضوع پر کوئی کتاب نہ مل سکی اس کے بعد میں نے دہلی کے ایک مسیحی ادارہ کو ٹیلیفون کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ آج شام
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues