Al-Risala · March 1988 · page 18
Vijai Lakshmi Pandit, The Scope of Happiness
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸
LAKSHADWEEP INDIA آۓ تو ان کے ساتھ صدف دل بھی لے چلے ساحل کی ہم نے خاک اڑائی ہے رات بھر اپنے کمالِ ضبط کا اظہار ہم کریں روئیں گے ہم ضرور مگر بات بات پر اک ایک دن ہے عمرِ گریزاں سے قیمتی کیوں کاٹتے ہو ہاتھ پہ رکھ کر حیات پر اک شخص کو بھلانا ہے مدت سے کام ہے جیسے کوئی چراغ جلائے ہو رات پر شاید وہ اس گلی سے گزرتا ہوا کبھی لکھی ہے ہم نے خاک پہ کیا کیا صفات پر ہم نے تو اپنے دل کے اجالے سے کر دیا روشن جہاں کو آپ اندھیرے کی رات پر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues