Petty quarrel leads to death
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲
انھوں نے سمندر میں چھلانگ لگادی۔ وہ تیرتے ہوئے مذکورہ چٹان کے اوپر پہنچے اور وہاں دھیان گیان کیا۔ اب اس چٹان پر ان کے نام سے بہت بڑا اسٹینڈ بن گیا ہے۔ تاہم قدرت کا سابقہ منظر اب وہاں موجود نہیں۔
آتے اور جاتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے جہ گوآ میں ٹھہرا۔ بہت سی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ۔ گوآ ۱۵۰۵ء سے پرتگال کے قبضہ میں تھا۔ ۱۹۶۲ میں دوبارہ وہ ہندوستان کے قبضہ میں آیا۔ آزادی (1947) سے قبل ہندوستان میں تین مغربی طاقتیں تھیں۔ زیادہ بڑے حصہ پر انگریز اور چند چھوٹے مقامات پر فرانسیسی اور پرتگالی۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے بدلے ہوئے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے پرامن طور پر اپنے زیر قبضہ علاقے خالی کر دیے مگر پرتگالی پر امن تخلیہ کے لئے راضی نہیں ہوتے ۔ ملک میں آزاد قومی حکومت کے قیام کے بعد جو اہرلال نہرو نے مسلسل یہ کوشش کی کہ پرتگالی پرامن طور پر اپنے علاقے کو آزاد کر دیں۔ مگر وہ راضی نہیں ہوئے ۔ آخر کار دسمبر ۱۹۶۱ میں ہندوستان نے فوجی کارروائی کرکے بزور گوآ پر قبضہ کر لیا۔ اس سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے نہایت بامعنی بات لکھی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ نہرو کے فوجی قبضہ کے بعد مغربی ملکوں میں اس کے خلاف کافی شور و غل ہوا مگر تاریخ کی روشنی میں نہرو کا اقدام جائز تھا۔ برطانی اور فرانسیسی واپسی کے بعد ہندوستان میں پرتگالی مقبوضات کی موجودگی ایک خلاف زمانہ حرکت تھی ، With the withdrawl of the British and the French, the Portugese colonial presence in India became an anachronism (12/946). حقیقت واقعہ کا اعتراف اگر آپ بخوشی نہ کریں تو بالآخر آپ کو حقیقتِ واقعہ کا اعتراف بجبر کرنا پڑے گا۔ اور دوسری صورت کے مقابلہ میں پہلی صورت یقینی طور پر زیادہ اہون ہے ۔ تریوندرم سے جہاز از بدلنا تھا، اس لئے یہاں چند گھنٹے رکنا پڑا ۔ تریوندرم ریاست کیرلا کا دار السلطنت ہے جو ساحل سمندر سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تریوندرم کو پہلی بار 1745 میں اہمیت حاصل ہوئی جب کہ راجہ مارتنداور مانے اس کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ کیرلا یونیورسٹی یہیں قائم ہے۔ مشہور اور نیٹل کا نفرنس (۱۹۳۷) تریوندرم ہی میں ہوئی تھی۔ اس کے صدر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues