Petty quarrel leads to death
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱
وہ خوبصورت سیپ جن میں دنیا کے کیکڑے بیٹھے ہوئے ہوں ان کو ہر آدمی دیکھ لیتا ہے اور اپنے سے دور پھینک دیتا ہے۔ مگر یہاں دوسرے بہت سے خوبصورت سیپ ہیں جن میں آخرت کے کیکڑے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان دوسری قسم کے کیکڑوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ ان کو ہر آدمی اپنے بیگ میں محفوظ کئے ہوئے ہے ۔ وہ ان کو صرف آخرت میں پھینکنا چاہے گا۔ مگر اس وقت کا پھینکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
حال ہی میں انگریزی اخبار دکن کرانیکل (۵ دسمبر، 1987) نظر سے گزرا۔ اس کی ایک خبر کی سرخی تھی ۔ معمولی جھگڑے پر موت :
Petty quarrel leads to death
خبر میں بتایا گیا تھا کہ حیدر آباد میں ایک شخص نے رات کے وقت کسی آدمی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ صاحب مکان کو اتنی رات میں دروازہ کھٹکھٹانا قابل اعتراض معلوم ہوا۔ وہ آنے والے سے جھگڑنے لگا۔ اب دوسرا شخص جو اس کا جاننے والا تھا اور سادہ طور پر صرف ملنے کے لئے آیا تھا۔ وہ بھی غصہ میں آکر لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی اور ایک شخص شدید زخمی ہو کر ہلاک ہو گیا۔ بظاہر یہ دو جاہل آدمیوں کی کہانی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی پوری ملت کی کہانی ہے۔ آج تمام دنیا میں مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ وہ معمولی معمولی باتوں پر لڑ جاتے ہیں اور لڑائی شروع ہونے کے بعد ان کی لڑائی دوبارہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک ان کے اندر لڑنے کی سکت ہی ختم نہ ہو جائے۔ عراق ۔ ایران کی حکومتی جنگ سے لے کر بستیوں کی انفرادی مقدمہ بازی تک ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہی ہے۔
راستہ میں ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے کوچن اترا۔ ۳۵ سال پہلے میں ایک بار چندن کے لئے کوچن آیا تھا۔ اس وقت کی کئی باتیں ابھی تک مجھ کو یاد ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کوچن سے راس کماری (کیپ کومورن) گیا تھا۔ اس وقت یہاں تعمیرات نہیں ہوئی تھیں ۔ ہندستان کے آخری ساحل پر بیٹھ کر دیر تک میں سمندر کے مناظر کو دیکھتا رہا۔ ساحل سے تقریباً نصف فرلانگ کے فاصلہ پر سمندر کے درمیان ایک چٹان تھی ۔ اس سے سمندر کا پانی ٹکرا کر اچھلتا تھا تو عجیب منظر پیدا ہوتا تھا۔ سوامی ویویکا نند ہندستان کا سفر کرتے ہوئے یہاں آئے تو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues