Al-Risala · March 1988 · page 24

Petty quarrel leads to death

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴

جزیرہ یہاں کا دار السلطنت ہے۔ یہ جزیرہ صرف ایک میل چوڑا اور ڈیڑھ میل لمبا ہے۔ مالدیپ کے سابق وزیراعظم مسٹر احمد ذکی مارچ ۱۹۷۹ء میں ہندوستان آئے تھے۔ یہاں انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ” ان کا ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بٹا ہوا ہے، اس بنا پر رسل و رسائل (Communication) کی بہت دشواری ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ “ آزادی (۱۹۶۵ء) کے بعد مالدیپ نے اس میدان میں خصوصی توجہ دی۔ اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔ تمام آباد جزائر میں بندرگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ جدید طرز کی کشتیاں جزائر کو مربوط کرنے کے لئے ہر وقت سمندر میں دوڑتی رہتی ہیں۔ وائر لیس کا عمدہ نظام قائم ہے جس کی وجہ سے ایک لمحہ میں ایک جزیرہ اور دوسرے جزیرہ کے درمیان ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔

ان چیزوں کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مالدیپ کے ذمہ دار اگر یہ مہم چلاتے کہ مالدیپ کے ۱۰۸ جزیروں کو ملا کر ایک کر دیا جائے تاکہ دوسرے ملکوں کی طرح ان کا ملک بھی ایک واحد زمینی خطہ بن جائے جس میں اس سرے سے اس سرے تک سڑکیں ہوں اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ریلیں دوڑتی ہوں۔ اگر وہ ایسی مہم چلاتے تو وہ صرف ایک بے فائدہ لفظ بازی ہوتی جس کا موجودہ اسباب کی دنیا میں کوئی حاصل نہیں۔ مگر انھوں نے اس قسم کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ اس کے برعکس انھوں نے صورت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے حسب حال اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۵ سال کے اندر ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ جب کہ جزائر کی یکجہتی کے لئے ان کی ”مطالباتی مہم“ ۲۵ ہزار سال میں بھی کسی نتیجہ پر پہنچنے والی نہیں تھی۔ اس دنیا میں کامیابی کی پہلی شرط حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کے بعد ہی کسی شخص یا قوم کا سفر شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کریں، ان کا سفر ہی شروع نہیں ہو گا۔ اور جس سفر کا آغاز نہ ہوا ہو وہ سفر اختتام پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ ۵ دسمبر ۱۹۸۰ء کی سہ پہر کو مالدیپ پہنچے۔ یہاں کا خاص شہر اور دار السلطنت مالے ہے۔ مالے سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا اور لمبا جزیرہ ہے۔ اس جزیرہ پر ہوائی اڈہ بنا ہوا ہے۔ اس جزیرہ کا رقبہ بس اتنا ہی ہے کہ وہ ایک اوسط درجہ کے ہوائی اڈہ کے طور پر استعمال ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page