A taste of paradise
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
اس کا طرز تعمیر عام ہوائی اڈوں سے مختلف ہے۔ وہ جس طرح فطری ماحول میں ہے، اسی طرح وہ فطری انداز میں بنایا گیا ہے اور نہایت خوبصورت ہے۔
ہوائی اڈہ اور مالے کے درمیان سمندر حائل ہے۔ یہ فاصلہ جدید طرز کی موٹر بوٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ سفر اس درجہ پرکشش تھا کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک عرب شیخ بار بار ”جمیل، جمیل“ کہے جا رہے تھے۔ ہمارے پیچھے ہوائی اڈہ پر جہاز رن وے پر دوڑ رہا تھا، اور ہمارے سامنے مشینی کشتی سمندر کی موجوں کو پھاڑتی ہوئی آگے چلی جارہی تھی۔ چاروں طرف آفاقی مناظر اور حسین فطرت آدمی کو مبہوت کر رہے تھے۔ اس تجربہ کے زیر اثر میں ہوٹل کے کمرہ میں داخل ہوا تو وہاں دیوار پر ایک خوبصورت تصویر تھی جس میں سمندر کے پس منظر میں جزیرہ کو دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے نیچے انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
A taste of paradise
میں نے سوچا کہ جس جنت کی دور کی ایک جھلک اتنی حسین ہو، وہ جنت خود کتنی زیادہ حسین ہوگی۔ بے اختیار یہ دعا نکلی کہ خدایا، میرے پاس کوئی عمل نہیں جس سے میں جنت جیسی قیمتی چیز کا امیدوار بن سکوں دوسرے لوگوں کو آپ جنت بطور جزا دیں گے، مجھ کو جنت بطور عطیہ دے دیجئے۔
موٹر بوٹ سے اتر کر سڑک پر آئے تو وہاں سب سے پہلے جو چیز نظر کے سامنے تھی وہ ایک بڑا سا بینر تھا جس پر لکھا ہوا تھا: مرحبا بالعلماء المسلمين على ارض الاسلام (اسلام کی سرزمین پر مسلم علماء کا آنا مبارک) یہ گویا پہلی تحریری علامت تھی کہ اب ہم اس منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں مذکورہ انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس کا انعقاد ہونے والا ہے۔
پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب پریچنگ آف اسلام میں مالدیپ کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ گمان غالب ہے کہ مالا بار کے راستہ سے اسلام مالدیپ میں پہنچا۔ اس جزیرے کے باشندے عرب اور ایرانی تاجروں کے ذریعے مسلمان ہوئے۔ یہ تاجر ان علاقوں میں آباد ہوتے۔ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور اس طرح انھوں نے یہاں موثر تبلیغ کا راستہ ہموار کیا۔ اندازہ ہے کہ مالدیپ میں پہلا اسلام قبول کرنے والا شخص سلطان احمد شنورازہ تھا جو ۱۲۰۰ء کے قریب مسلمان ہوا۔ (صفحه ۳۷۲) کچھ مورخین کا خیال ہے کہ لگ بھگ ۵۰۰ء میں سیلون سے کچھ بدھسٹ یہاں آکر آباد
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues