Al-Risala · March 1988 · page 35

He used to criticise the government openly

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵

جمہوری انداز کی ہر میٹنگ یا کانفرنس میں میں نے یہی منظر دیکھا ہے۔ ہمارے لیڈر جو جمہوریت کی حمایت میں پرجوش تقریریں کرتے ہیں، انھیں اس سے پہلے لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ فکری انضباط کے ساتھ سوچنے کے قابل ہو سکیں۔ مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں میرے ایک ساتھی محمد عبد الرشید برمی تھے۔ وہ رنگون کے رہنے والے تھے۔ اپنے ملک واپس جانے کے بعد انھوں نے ’’ برمی مسلم آرگنائزیشن‘‘ کے نام سے ایک جماعت بنائی۔ وہ اس کے صدر تھے۔ یہ تنظیم برما میں بہت مقبول ہوئی۔ وہ ایک اچھے مقرر تھے انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور اس کے بعد ’’لیبر اینڈ انڈسٹری‘‘ محکمہ کے وزیر مقرر ہوئے۔ دوسرے ممالک سے برما کے تعلقات قائم کرنے میں انھوں نے اہم رول ادا کیا اور ملک میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

مالدیپ کی کانفرنس میں برما کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عبد الرشید (ایم (اے رشید) کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ان سے ان کے بارہ میں کافی معلومات حاصل ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۲ میں جب برما میں فوجی حکومت قائم ہوئی اور اس نے منتخب حکومت کو ختم کر دیا تو عبد الرشید صاحب کھل کر اس کے خلاف تنقیدیں کرنے لگے :

He used to criticise the government openly

چنانچہ حکومت ان کی مخالف ہوگئی۔ آخر عبد الرشید صاحب پاکستان چلے گئے اور وہیں ۱۹۷۸ میں ان کا انتقال ہو گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عبد الرشید صاحب نے اپنی وزارت کے زمانہ میں علماء کی ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے قرآن کا ترجمہ برمی زبان میں کیا۔ تاہم اس کے چھپنے سے پہلے عبد الرشید صاحب کی حکومت ختم ہو گئی ۔ بعد کو قرآن کا یہ ترجمہ خود موجودہ حکومت کے تعاون سے شائع ہوا۔ موجودہ حکومت مسلم تنظیموں کو 65000چاٹ (برمی سکہ) سالانہ امداد دیتی ہے۔ اسی سے مذکورہ ترجمہ قرآن شائع کیا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ عبد الرشید صاحب نے ختم حکومت کے بعد جو راستہ اختیار کیا، وہ یہ تھا کہ نئی حکومت کے مخالف بن کر کھڑے ہوں اور بالآخر پاکستان جاکر خاموشی کے ساتھ فوت ہو جائیں اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page