اسلامی تعلیم کا جائزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴
اندر کمزور اقلیت بن جائیں گے ۔ چنانچہ ان کے لیڈروں نے مطالبہ کیا کہ اس علاقے میں ایک مسلم پر اونشیل کونسل “ بنائی جائے جس کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل ہو ۔ اس مقصد کے لئے براہ راست یا بالواسطہ مطالبے اور مظاہرے شروع ہوئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سری لنکا کے مسلمان حکومت اور تامل ٹائیگرس دونوں کی نظر میں مشتبہ ہو گئے ۔ اسی سیاست کا نتیجہ ہے کہ جن سے آجکل سری لنکا کے ایک ملین سے زیادہ مسلمان دوچار ہیں ۔
سری لنکا اور دوسرے بہت سے ملکوں ( مثلاً برما ، فلپائن ، اریٹیریا وغیرہ ) میں آج کل مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ میرے نزدیک تقسیم “ کی سیاست کی توسیع ہے ۔ اس طریق کار کی نادرستگی خود اس ملک میں ثابت ہو چکی ہے جو تقسیم کی سیاست کے نتیجہ میں بنا تھا۔ یہ منقسم ملک 1971 میں دو ملک میں تقسیم ہو گیا اور اب وہاں تقسیم کرانے والے لوگ دوبارہ ایک اور تقسیم ( مہاجر صوبہ ) کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اس واضح ناکامی کے باوجود جو لوگ بدستور تقسیم کو اپنے مسئلہ کا حل سمجھیں اور اس کے لئے تحریک چلائیں ، ان کے متعلق کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بصیرت سے محروم ہیں ۔ ان کو ماضی کا گزرا ہوا واقعہ بھی دکھائی نہیں دیتا ، پھر کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل کے آنے والے واقعہ کو دیکھ سکتے ہیں ۔
” جمہوریت “ بظاہر اچھی چیز ہے۔ مگر جمہوریت کی صحیح کارکردگی کے لئے شعوری پختگی اور فکری انضباط نہایت ضروری ہے ورنہ جمہوریت بے فائدہ ہو کر رہ جاتی ہے ۔ مثلاً اس کانفرنس میں ایک موضوع خواتین کے دعوتی رول ( دور المرأة المسلمة في الدعوة الاسلامية ) تھا۔ اس موضوع کا آغاز ایک صاحب کی تقریر سے ہوا۔ ان کی تقریر عمومی نوعیت کی تھی ۔ چنانچہ فوراً ہی ایک صاحب نے کہا کہ یہ تقریر غیر متعلق ہے ۔ کیوں کہ ایجنڈا کے مطابق موضوع ” دعوت اسلامی میں مسلم عورت کا رول “ ہے اور مقرر نے عمومی طور پر مسئلہ خواتین پر تقریر کی ہے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ ” دعوت “ کسی محدود چیز کا نام نہیں ۔ دعوت سے مراد تمام اسلامی سرگرمیاں ہیں ۔ ایک صاحب نے اپنی پرجوش تقریر میں کہا کہ دعوت کا مطلب میرے نزدیک اسلام کا عملی پہلو (Practical aspect of Islam) ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح کی بحثیں دیر تک ہو تی رہیں اور کوئی متعین اور مثبت چیز سامنے نہ آسکی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues