He used to criticise the government openly
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
قرآن محدود کتاب ہے۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ ادعو نی استجب لكم (البقره ۱۸۶) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا کلام جاری ہے ، وہ ختم نہیں ہوا۔
میں نے پوچھا کہ پہر آپ لوگوں نے کس رائے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ : إن كلام الله في القرآن هو كلام الله بالمجمل، أما كلامه بالتفصيل فهو موجود في الكون (قرآن میں اللہ کا کلام مجمل ہے ، اس کا تفصیلی کلام کائنات میں موجود ہے)۔
اسی نشست میں ان سے لبنان کے حالات پر گفتگو ہوئی تو وہ فوراً لبنانی عیسائیوں کی شکایت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی ہم پر مسلسل ظلم کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ھر قسم کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کے بارہ میں ایک غیر متعلق بحث میں آپ اور آپ کے ساتھیوں نے کئی دن صرف کر دئے ۔ مگر عیسائی مسئلہ کا جواب آپ نے قرآن میں تلاش نہیں کیا۔ حالانکہ وہ براہ راست آپ سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر میں نے آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے، یہاں ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر یہاں ہر ایک اپنے امکان کے بقدر استغلال میں لگار ہتا ہے۔ لبنان کے عیسائی علم اور ثقافت کے میدان میں مسلمانوں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا استغلال کر رہے ہیں۔ اس کا حل شکایت اور فریاد نہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو ترقی کے راستوں میں آگے بڑھایا جائے ۔ اس کے بعد یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
۱۰ دسمبر کی شام کو مالدیپ کے صدر مامون عبد القيوم سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ وہ مطالعہ کا ذوق رکھتے ہیں اور انھوں نے میری عربی کتابیں قاہرہ میں تعلیم کے زمانہ میں پڑھی ہیں۔ مالدیپ کے وزیروں اور اعلیٰ عہدیداروں میں اکثر لوگ انگریزی کے ساتھ عربی زبان بھی بخوبی جانتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا : ”مالدیپ موجودہ زمانہ میں واحد مسلم ملک ہے جہاں مولویوں کی حکومت ہے“۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا ہر مسلم حکمراں خواہ وہ بظاہر بے ریش ہو، اندر سے وہ ”مولوی “ ہی تھا۔ مگر مسلم قائدین
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues