Al-Risala · March 1988 · page 41

All are enemies of Islam

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱

کی جھوٹی مخالفانہ سیاست نے ہر مولوی حکمراں بنا دیا۔

استاذ محمود احمد گفتار (۲۰ سال) دمشق سے آئے تھے۔ وہ وہاں مفید دینی کام کر رہے ہیں۔ دوسرے بہت سے مسلم نوجوانوں کی طرح ان کا انجام بھی یہ ہو سکتا تھا کہ جہاد کے نام پرحکمرانوں سے بے معنی جنگ کریں اور پھر ناکام ہو کر دنیا کو یہ خبر دیں کہ یہ حکمراں اسلام اور اسلامی تحریکوں کے دشمن ہیں۔ مگر ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو ایسا باپ ملا جو واقعی معنوں میں حکیم تھا۔ اس نے ان کو صحیح ترین مشورہ دیا۔ اور سعادت مند بیٹے نے اس مشورہ کو قبول کر لیا۔

دكتور الشیخ احمد گفتار (المفتی العام للسورية، رئيس المجلس الافتاء الاعلى) نے اپنے لائق بیٹے کو بتایا کہ کوئی حقیقی کام کرنے کے لئے لازمی طور پر حکمت درکار ہوتی ہے۔ حکمت کے بغیر نہ دین کا کوئی کام کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا۔ حکمت کیا ہے، حکمت یہ ہے کہ مطلوب کام مطلوب وقت پر اور مطلوب شکل میں کیا جائے ( الحكمة : فعل ما ينبغى ، فى الوقت الذي ينبغي ، وعلى الشكل الذي ينبغي )

شیخ گفتار کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے لازم ہے کہ ہمارا بنیادی کام دعوت کے میدان میں ہو۔ ہم سیاسی لوگوں سے جھگڑا نہ کریں تاکہ دعوت اسلامی کے مواقع ضائع نہ ہو جائیں ( يجب ان يكون عملنا الاساسي في ميدان الدعوة ولا نتناحر مع السياسيين حتى لا تضيع على الدعوة الاسلامية الفرض )

شیخ گفتار کے صاحبزادہ محمود احمد گفتار کی زبان سے میں نے یہ باتیں سنیں تو میں نے کہا کہ بلاشبہ یہی حکیمانہ طریقہ ہے اور اسی کا نام اسلام ہے۔ اس کے سوا جو کچھ آج اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے وہ محض بے معنی لیڈری ہے جس کی کوئی قیمت نہ دین کے اعتبار سے ہے اور نہ دنیا کے اعتبار سے۔

ایک صاحب نے اپنی پر جوش تقریر میں کہا کہ غیر مسلم تنظیموں اور غیر مسلم حکومتوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ سب کے سب اسلام کے دشمن ہیں۔

All are enemies of Islam

میں نے کہا کہ آپ کا فرمانا ہے کہ سب اسلام دشمن ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ سب اسلام دوست

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page