Man is only a personality. Nothing beyond that.
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۴۶
If you desire to contact Gideons in this area, please consult the local telephone directory. موجودہ زمانہ میں بے شمار نئے امکانات پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ دنیا کے تمام بڑے، بڑے شہروں میں جدید طرز کے ہوٹل بنے ہوئے ہیں جن میں بے شمار انسانی قافلے ٹھہرتے ہیں۔ ہر جگہ ٹیلی فون کا نظام قائم ہے اور ڈائرکٹریاں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ ان ذرائع نے کسی فکر کی اشاعت کا زبردست نیا امکان پیدا کر دیا تھا۔ مگر ہمارے رہنماؤں نے بے معنی لڑائیوں میں پورا ایک دور ضائع کر دیا۔ جدید ذرائع میں سے کسی ذریعہ کو بھی وہ دین خداوندی کی اشاعت کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ بائبل کے اس نسخہ کے شروع میں درج تھا کہ بائبل (3:16 John) میں ایک جملہ ہے جس کو گیارہ سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ مذکورہ نسخہ میں چند درجن زبانوں کے ترجمے نقل کئے گئے تھے۔ اس کا عربی ترجمہ ان الفاظ میں درج کیا گیا تھا :
لانه هكذا احب الله العالم حتى بذل ابنه الوحيد لكي لا يهلك كل من يؤمن به بل تكون له الحيوة الابدية ابعیت مسیح کا یہ عقیدہ چرچ کے مطابق، مسیحی مذہب کا اہم ترین عقیدہ ہے۔ بلکہ اسی عقیدہ پر موجودہ مسیحیت قائم ہے۔ مگر چرچ کے نزدیک وہ جتنا اہم ہے، عام انسان کو وہ اتنا ہی زیادہ غیر اہم معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ خود بائبل کے اس نسخہ میں موجود تھا۔ جو لوسیا، ہوٹل میں رکھا ہوا تھا۔ اس کو میں نے الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس کے آخری صفحہ پر ایک جملہ درج تھا۔ یہ کسی مسافر کا تاثر تھا جو اس نے " مقدس کتاب " کے آخر میں ثبت کیا تھا۔ اگر چہ وہاں مسافر کا نام نہیں تھا۔ تا ہم اس کا فقرہ بہت با معنی تھا۔ اس نے اپنے قلم سے لکھا تھا :
Man is only a personality. Nothing beyond that.
یعنی آدمی صرف ایک شخصیت ہے، اس کے آگے اور کچھ نہیں۔ موجودہ مسیحی مذہب کی بنیاد الوہیت مسیح کے عقیدہ پر قائم ہے مگر انسان کی عقل میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ ایک شخص جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا وہ خدا یا خدا کا بیٹا تھا۔ اگر آپ مسیحیت کو مانیں تو آپ کو عقل سے دست بردار ہونا پڑتا ہے اور اگر عقل کو مانیں تو مسیحیت سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues