Al-Risala · April 1988 · page 4

یہ اسلام نہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴

مستهزؤن بالمومنين ۔

تفسير ابن كثير)

ذَلِكَ انهم كانوا يطوفون بالبيت عراة وهم شبكون بين اصابعهم يصفرون فيها و يصفقون وكانوا يفعلون نحو ذالك اذا قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلوته يخلطون عليه (تفسير نسفى )

ى ما كانت عبادة المشركين وصلاتهم عند لبيت الحرام الا ‌تَصْفَيرا وتصفيقا وكانوا يفعلونهما اذا صلى المسلمون ليخلطوا عليهم صلاتهم ۔

(صفوة التفاسير )

زھری نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے ایسا کرتے تھے۔

وہ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے اور وہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر اس میں سیٹی بجاتے اور تالیاں بجاتے۔ وہ ایسا اس وقت کرتے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن پڑھتے ، وہ گڈ مڈ کرنا چاہتے تھے۔

یعنی بیت اللہ الحرام میں مشرکین کی عبادت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹی بجاتے اور تالیاں بجاتے۔ اور یہ دونوں کام وہ اس وقت کرتے جب کہ مسلمان نماز پڑھتے تاکہ ان کی نماز کو گڈ مڈ کر دیں۔

عن سعيد قال : كانت قريش يعارضون النبي صلى الله عليه وسلم في الطواف يستهزؤن به يصفرون ويصفقون - وقال مقاتل كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى في المسجد قام رجلان عن يمينه فيصفران ورجلان عن يساره فيصفقان ليخلطوا على النبي صلى الله عليه وسلم صلوته ۔

(التفسير المظهري)

حضرت سعید نے کہا کہ قریش طواف کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتے۔ وہ آپ کا مذاق اڑاتے ، وہ سیٹی بجاتے اور تالی بجاتے ۔ اور مقاتل نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد حرام میں نماز پڑھتے تو آپ کے دائیں طرف دو آدمی کھڑے ہوجاتے اور دونوں سیٹی بجاتے اور دو آدمی آپ کے بائیں طرف کھڑے ہوجاتے اور تالیاں بجاتے تاکہ رسول اللہ پر آپ کی نماز کوگڑ بڑ کردیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۱۳ سال تک رہے ۔ وہاں مسلسل آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا رہا جس کا ذکر اوپر کے اقتباسات میں آیا ہے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page