اقرا باسم ربک
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۵
خلاف کوئی احتجاج یا کوئی جوابی کاروائی کریں ۔ آپ اس قسم کی تمام باتوں پر یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس زمانہ میں اہل ایمان کی ایک تعداد جمع ہوگئی تھی ۔ یہ لوگ نہایت بہادر اور جاں نثار تھے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر مشرکوں پر ہجوم کریں یا ان کو شور و غل سے روکنے کے لیے کوئی جوابی عملی کاروائی کریں ۔
مشرکوں کے شور و غل پر آپ کا چپ رہنا خوف کے تحت نہیں تھا بلکہ منصوبہ کے تحت تھا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ آپ خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کرنا چاہتے تھے ، اس لیے آپ نے ضروری سمجھا کہ جھگڑے اور ٹکراؤ والی باتوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی ان تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دعوت و تبلیغ کی محنت میں لگے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حالات میں تبدیلی فرمائی ۔ اس کے بعد مشرکین کے شور کا بھی خاتمہ ہوگیا اور خود مشرکین کا بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کے اندر گھس کر شور و غل کیا جاتا تھا۔ تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہیں کی ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ مسجد کے قریب کی سڑک پر کوئی جلوس شور کرتا ہوا گزرے تو وہ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اگر اسلام وہ ہے جو رسول اللہ نے کیا تو مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلام نہیں ۔ اور اگر اسلام وہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان کر رہے ہیں تو رسول اللہ نے جو کچھ کیا وہ اسلام نہیں تھا ۔ اب مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ دونوں میں سے جس بات کو چاہیں اپنے لیے پسند کرلیں ۔
اقرا باسم ربک
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues