Al-Risala · April 1988 · page 8

ہار مان کر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۸

ہار مان کر

دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کو امریکہ کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد اپریل ۱۹۴۵ء میں امریکی فوجیں جاپان میں اتر گئیں۔ جنرل ڈگلس میک آر تھر (Douglas MacArthur) امریکہ کی طرف سے جاپان کے سپریم کمانڈر مقرر ہوئے۔ جو ۱۹۵۱ تک وہاں رہے ۔ اس کے بعد جنرل میک آر تھر کی مرضی کے مطابق جاپان کا نیا دستور بنایا گیا جو ۳ نومبر ۱۹۴۶ کو جاپانی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا ۔ اس دستور کے تحت شہنشاہِ جاپان کی حیثیت گھٹا کر اس کو علامتی حکمران (Symbol of the State) کا درجہ دے دیا گیا ۔ دستور کی دفعہ ۹ کے تحت جاپانی قوم نے عہد کیا کہ وہ کبھی بھی نہ زمینی، بری یا ہوائی فوج رکھے گی اور نہ کسی قسم کی اور کوئی جنگی تیاری کرے گی :

Land, sea, and air forces, as well as other war potential, will never be maintained (10/87). یہ دستور بظاہر جاپان کی مستقل قومی موت کے ہم معنی تھا ۔ مگر جاپان کے لیڈروں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس کو مکمل طور پر منظور کر لیا۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ یہ دستور اگر چہ فوجی اور سیاسی اعتبار سے جاپان کے لیے اقدام کا راستہ بند کر رہا ہے ۔ مگر اس کے باوجود ان کے لیے سائنس اور صنعت میں اقدام کا راستہ پوری طرح کھلا ہوا ہے ۔ جاپان کی قوم جنگی اور سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے واپس آ کر علم اور صنعت کے میدان میں باقی ماندہ مواقع کو استعمال کرنے لگی ۔ یہاں تک کہ صرف 40 سال بعد مورخ کو جاپان کے بارے میں یہ الفاظ لکھنے پڑے ۱۹۴۵ء کی دوسری عالمی جنگ میں شکست کھایا ہوا جاپان، دوبارہ جنگ کے کھنڈروں سے اٹھ کھڑا ہوا اور دنیا کی ایک عظیم اقتصادی طاقت بن گیا : Defeatcd in World War II (1945), Japan emerged from the ruins of war as one of the major economic powers in the world (V/519). حال کو مان لینا آدمی کے لیے مستقبل کا راستہ کھولتا ہے ۔ جو لوگ حال کو نہ مانیں وہ مستقبل کے عظیم تر امکانات کو پانے سے بھی محروم رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page