Al-Risala · April 1988 · page 9

تاریخ کا سبق

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۹

تاریخ کا سبق

سرٹامس رو (Sir Thomas Roe) سترھویں صدی عیسوی کے شروع میں لندن سے ہندوستان آیا اور یہاں تین سال (1618ء - 1615ء) تک رہا۔ اس نے مغل حکمراں جہانگیر سے تعلق پیدا کیا۔ دوسری اعلیٰ صفات کے ساتھ اس کی ایک صفت یہ تھی کہ وہ ترکی زبان جانتا تھا اور جہانگیر سے براہِ راست گفتگو کر سکتا تھا۔

سرٹامس رو (1642ء - 1581ء) جب ہندوستان آیا، اس وقت جہانگیر اجمیر میں تھا۔ ٹامس رو اجمیر پہنچا اور تین سال تک یہاں رہا۔ جہانگیر کبھی کبھی اس کو اپنے دربار میں بلاتا اور اس سے ادھر ادھر کی گفت گو کرتا۔ ٹامس رو نے اندازہ کیا کہ جہانگیر کو فن مصوری سے بہت دل چسپی ہے۔ اس نے ایک روز جہانگیر کی خدمت میں ایک تصویر پیش کی۔ جہانگیر کو یہ تصویر بہت پسند آئی۔

ٹامس رو نے محسوس کیا کہ وہ جس وقت کا منتظر تھا، وہ وقت اب اس کے لیے آ گیا ہے۔ اس نے بادشاہ سے ایک ایسی چیز مانگی، جو بظاہر بہت معمولی تھی۔ یہ چیز کہتی، ہندوستان کے ساحلی شہر سورت میں فیکٹری (تجارتی ادارہ) قائم کرنے کی اجازت۔ بادشاہ نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس کے مطابق انگریز (ایسٹ انڈیا کمپنی) کو سورت میں اپنا تجارتی ادارہ قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔

ہندوستان کے ایک شہر میں تجارتی ادارہ کھولنے کی اجازت بظاہر بہت معمولی چیز تھی۔ کیونکہ اس کے باوجود ہندوستان کا وسیع ملک مغل حکمرانوں ہی کے حصہ میں تھا۔ عظمت و شان اور قوت و طاقت کے تمام مظاہر پر دوسروں کا قبضہ بدستور باقی تھا۔ مگر سورت میں تجارتی ادارہ قائم کرنا انگریز کو وہ سہرا دے رہا تھا، جو بالآخر اس کو تمام دوسری چیزوں پر قبضہ دلا دے۔ چنانچہ انگریز نے اس کمتر چیز کو قبول کر لیا اور اس کے بعد تاریخ نے بتایا کہ جو کم تر پر راضی ہو جائے وہ آخر کار برتر پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کا سبق ہے، مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس تاریخ سے سبق حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page