Al-Risala · April 1988 · page 10

تشخیص کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰

تشخیص کا مسئلہ

مسلمان موجودہ زمانہ میں احساس محرومی کا شکار ہوئے۔ وہ ایسے حالات سے دوچار ہوئے جس نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کوئی چیز ان سے کھوئی گئی ہے۔ اس موقع پر اصل سوال یہ تھا کہ وہ کیا چیز ہے جو مسلمانوں سے کھوئی گئی ہے، کیوں کہ آدمی جس چیز کے بارے میں احساس محرومی سے دوچار ہو اسی کو وہ پانے کی کوشش کرے گا۔ اسی کے بارے میں وہ اپنا سارا زور لگا دے گا۔ اس موقع پر ایک سنگین حادثہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کے تمام لیڈروں نے انھیں یہ احساس دلایا کہ ان سے جو چیز کھوئی گئی ہے وہ حکومت ہے۔ مسلمانوں کے درمیان جو شاعر اور خطیب اور انشار پرداز پیدا ہوئے، اور جو نام نہاد مفکرین ان کے درمیان اٹھے ان سب نے اپنے اپنے انداز سے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ تم حکومت سے محروم ہو گئے ہو اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے تم کو موجودہ زمانہ میں حقیر اور کمزور کر دیا ہے۔

اس تشخیص کے قدرتی نتیجہ کے طور پر یہ ہوا کہ تمام مسلمان نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں حکومت واقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے احیاء ملت اور تجدیدِ اسلام کے نام سے جو کوششیں کی ہیں وہ تقریباً سب کی سب اسی ایک خانہ میں جاتی ہیں۔ مگر ان کوششوں کی صد فی صد ناکامی بتاتی ہے کہ وہ تشخیص صد فی صد غلط تھی جس کی بنیاد پر یہ تحریکیں اٹھائی گئیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے جو چیز کھوئی ہے وہ تعلق باللہ ہے۔ اللہ پر زندہ عقیدہ ، اللہ کی سچی پرستش، اللہ کے آگے مسئولیت کی تڑپ ، اللہ کے لیے جینے اور مرنے کا احساس، یہ ہے وہ اصل چیز جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے کھوئی گئی ہے یہ محرومی اتنی عام ہے کہ اصاغر اور اکابر، حتیٰ کہ بے ریش اور باریش دونوں قسم کے مسلمان اس سے خالی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہی اصل کمی ہے جس نے ان کے اندر دوسری تمام کمیاں پیدا کی ہیں۔ جب تک ان کی یہ کمی دور نہ ہو وہ اپنی اسی موجودہ حالت میں پڑے رہیں گے ۔ کسی بھی دوسری چیز کا حصول ان کے مرض کا علاج نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page