Al-Risala · April 1988 · page 12

بربادی کے باوجود

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲

بربادی کے باوجود

"ہر نا کامی میں ایک ننی کامیابی کا امکان چھپا ہوا ہوتا ہے" یہ ایک ابدی اصول ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اس اصول کے بہت سے عملی نمونے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمونہ یہ ہے کہ اٹھھویں صدی میں جن ممسلمانوں کے اوپر اسپین کے دروازے بند کیے گیے تھے، انہیں کے ذریعہ ۔ افریقہ کے بربری قبائل میں اسلامی دعوت کے دروازے کھلے۔

پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ بربری قبائل کے لوگ اپنے پہاڑوں کے حصار میں بندتھے اور اپنی خود مختاری کے دلدادہ تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے یہاں عربی عناصر کے داخلہ کو کامیابی سے روکا۔ اور اس بناپر ان کو سلمان بنانے میں بہت دشواریاں حائل ہوئیں۔ مادریہ سلسلہ کی ایک خانقاہ (ساقیہ الحمراء) کے صوفیوں نے ان کے یہاں ایک تبلیغی مشن قائم کرنے کی۔ کوشش کی تھی مگر انھیں اس مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی ۔

بربری قبائل کے درمیان اسلام کے لیے راستہ ہموار کرنے کا سہرا اندلسی مسلمانوں کے سر ہے۔ جو سقوط غرناطہ (۱۴۹۲ء) کے بعد اسپین سے نکال دیے گیے تھے۔ اور اس کے بعد افریقہ آکر اسی خانقاہ میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔ خانقاہ کے شیخ نے دیکھا کہ یہ لوگ تبلیغ کے اس دشوار کام کے لیے بہت موزوں ہیں جس کو سر انجام دینے میں ان کے اپنے مریدوں کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ اس کار خیر پر روانہ کرنے سے پہلے انھوں نے ان کو ان الفاظ میں مخاطب کیا : " ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اسلام کی مشعل ان ملکوں میں لے جائیں جو برکات اسلام کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان بد قسمت قبائل کے ہاں نہ تو مدارس ہیں اور نہ کوئی شیخ ہے جو ان کے بچوں کو اصول اخلاق اور محاسن اسلام کی تعلیم دے سکے ۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح رہتے ہیں جن کو نہ خدا کا علم ہے، نہ دین کا۔ لہذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس ناگوار صورت حال کی اصلاح کے لیے تمہاری دینی حمیت اور نور ایمان سے درخواست کروں تاکہ یہ کوہستانی لوگ اپنی قابل رحم جہالت کی دلدل میں غلطاں و پیچاں نہ رہیں اور ہمارے دین کی شاندار صداقتوں سے باخبر ہو جائیں۔ جاؤ اور ان کے ایمان کی بجھتی ہوئی آگ کو ہوا دو اور اس کی دبی ہوئی چنگاریوں کو دوبارہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page