بربادی کے باوجود
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳
روشن کرو۔ اپنے پہلے مذہب یعنی عیسائیت کی جس ضلالت سے وہ اب تک آلودہ ہیں، اس سے ان کو پاک کرو اور ان کو یہ سمجھاؤ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں عیسائیت کے برعکس میل کچیل اللہ تعالیٰ کی نظروں میں مقبول نہیں ہے۔ میں تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتا کہ تمہارے کام میں بہت سی دشواریاں ہیں لیکن تمہاری ناقابل تسخیر حمیت اسلامی اور حرارت ایمانی خدا کے فضل و کرم سے تمام مشکلات پر غالب آئے گی۔ میرے بچو! جاؤ، اور اس بد نصیب قوم کو خدا اور اس کے رسول کی طرف دوبارہ لاؤ جو اس وقت جہالت اور کفر کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ان کو نجات کا پیغام پہنچاؤ۔ خدا تمہارے شامل حال رہے اور تمہاری مدد فرمائے۔ یہ مبلغ پانچ پانچ، چھ چھ کی جماعتوں میں مختلف اطراف میں روانہ ہوگئے۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں عصا لیے چل دیے اور انھوں نے پہاڑوں کے سنسان اور غیر آباد مقامات انتخاب کر کے وہاں کے غاروں میں چٹانوں کے درمیان خانقاہیں قائم کیں۔ قبائل کے درمیان ان کی پرہیزگاری اور عبادت گزاری کا چرچا ہونے لگا۔ چنانچہ یہ قبائل جلد ہی ان کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرنے لگے۔ ان مبلغوں نے آہستہ آہستہ اپنے علم طب اور صنائع و حرفت اور تمدن کے دیگر فوائد کی بدولت بربری قبائل کے ہاں اپنا مطلوبہ اثر و رسوخ قائم کر لیا اور ہر ایک خانقاہ اسلامی تعلیم کا مرکز بن گئی۔ ان نو واردوں کے علم و فضل کی کشش سے بہت سے طالب علم ان کے گرد و پیش جمع ہوگئے، اور کچھ عرصے کے بعد یہی طالب علم اپنے ابنائے وطن میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کا مذہب ان قبائل کے تمام علاقوں اور صحرائے الجزائر کی بستیوں میں پھیل گیا۔ “ پریچنگ آف اسلام، صفحہ ۳۵-۱۴۲ پروفیسر آرنلڈ کا مذکورہ اقتباس بتاتا ہے کہ قدیم اسپین کی تاریخ سے دو قسم کے واقعات وابستہ ہیں ۔ ایک یہ کہ عیسائیوں نے انھیں اسپین سے ظالمانہ طور پر نکالا۔ دوسرے یہ کہ ان نکلے ہوئے مسلمانوں نے باہر آ کر اسلام کا ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص ”پہلے اسپین“ کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے، ”دوسرے اسپین کو جاننے والا ان کے درمیان کوئی نہیں ۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جنہیں اندھیرے تو خوب نظر آئیں، مگر اجالے ان کو دکھائی نہ دے سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues