موقع شناسی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
من امر دینکم (التفسیر المظہری) فيه ذكر دینکم میں تمہیں درکار ہیں۔ قرآن میں تمہارے دین کا بھی و دنیاکم (تفسیر النسفی) ذکر ہے اور تمہاری دنیا کا بھی۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آئندہ فتنے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اے جبریل، پھر اس کا حل کیا ہے۔ حضرت جبرئیل نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ اس میں آپ سے پہلے کی خبر ہے اور اس میں آپ کے بعد کی خبر ہے اور اس میں فیصلہ موجود ہے (نزل جبريل عليه السلام علی عہد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره انها ستكون فتن ۔ قال فما المخرج منها يا جبریل ۔ قال كتاب الله ۔ فيه نبأ ما قبلكم و نبأ ما هو كائن بعدكم وفيه الحكم بينكم، جامع الاصول، جزر ۸، صفحه ۴۶۴) جب قرآن کی حیثیت یہ ہے تو ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے مسائل کے لیے قرآن کو دیکھیں اور اسی کے اندر اس کا حل تلاش کریں۔ قرآن کے اندر جب تمام باتیں ہیں تو یقیناً اس کے اندر ہمارے موجودہ سنگین مسائل کا بیان بھی ہونا چاہیے، اور یہ بھی کہ ان مسائل کا واقعی حل کیا ہے۔ ہمیں قرآن میں دیکھنا چاہیے کہ وہ ہمارے مسائل کے بارہ میں ہمیں کیا نقطہ نظر دیتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن میں تمام مسائل کے بارہ میں اعلیٰ رہنمائی موجود ہے۔ مگر اس رہنمائی کو پانے کے لیے صرف قرآن کو پڑھ لینا کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو اس کامل آمادگی کے ساتھ پڑھا جائے کہ جو رہنمائی قرآن میں ملے گی اس کو میں بے چون و چرا قبول کر لوں گا۔ قرآن کی رہنمائی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر قرآن سے رہنمائی حاصل کریں۔ جو قرآن کی رہنمائی کو ماننے کے لیے اس طرح تیار ہوں کہ قرآن اگر ان کی سوچ کی تصدیق نہ کرے تو وہ پکار اٹھیں کہ ”میں غلطی پر تھا" مفاد یا ذاتی وقار کا سوال جن کے لیے سچائی کو مان لینے میں رکاوٹ نہ بنے۔
سچائی کو پانے کے لیے اپنے آپ کو جھوٹا کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص اپنے جھوٹ کو کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ نہ کرے وہ اس دنیا میں سچائی کو پانے والا بھی نہیں بنتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues