موقع شناسی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹
علیہ وسلم قال : إنَّ اللهَ يَرفَعُ بِهذا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ اس کتاب (قرآن) الكِتابَ أَقواماً وَيَضَعُ بِهِ آخَرينَ کے ذریعہ کچھ لوگوں کو اٹھاتا ہے اور کچھ دوسرے (رواه مسلم) لوگوں کو گرا دیتا ہے ۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ کسی گروہ کے پاس قرآن کی محض موجودگی وہ چیز ہے جو اس کو ترقی اور کامیابی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو موجودہ زمانہ کے مسلمان ہرگز تباہی اور بربادی کا شکار نہ ہوتے ۔ کیوں کہ آج مسلمانوں کے پاس ہر جگہ قرآن موجود ہے ۔ آج پریس کا دور ہے ۔ قرآن کے نہایت صحیح نسخے کروڑوں کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں پھیل گیے ہیں ۔ کوئی گھر اور کوئی مسلم بستی ایسی نہیں ہے جہاں قرآن کے نسخے لوگوں کے پاس موجود نہ ہوں ۔
پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے ۔ کیوں کر ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے ذریعہ کوئی قوم اوپر اٹھتی ہے ، اور دوسری قوم قرآن کے ذریعہ سے گر کر تباہ ہو جاتی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ نتیجہ قرآنی نقطہ نظر کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ جو لوگ قرآنی نقطۂ نظر کو اختیار کریں وہ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں ، اور جو لوگ قرآنی نقطۂ نظر کو اختیار نہ کریں وہ ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتے ہیں ۔
قرآن میں زندگی کی تمام حقیقتیں بتا دی گئی ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہے :
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری جس میں (الانبیاء (۱۰) تمہارا ذکر ہے ۔
اس آیت میں ” ذکر “ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں ہم دو حوالے نقل کرتے ہیں : (فيه ذكركم) اى ذكرما تحتاجون اليه یعنی ان تمام باتوں کا تذکرہ جو دین کے معاملہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues