Al-Risala · April 1988 · page 22

تخلیق کا مقصد

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

ایک مثال

موجودہ زمانہ میں جو مسلم مصلحین اٹھے وہ زیادہ تر حالات کے رد عمل میں اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ رأفت اور ہمدردی بہت کم پائی جاتی ہے جو پیغمبر کے کلام میں کامل طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم مصنف کی اس کتاب میں نظر آئی جو انھوں نے پردہ (حجاب) کے موضوع پر لکھی ہے۔ پردہ کی اہمیت پر کلام کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے :

"میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے احوال پردے کی تخفیف کے نہیں، اور زیادہ اہتمام کے مقتضی ہیں۔ کیوں کہ آپ کے نظام معاشرت کی حفاظت کرنے والے دوستوں گر چکے ہیں اور اب تمام دارو مدار صرف ایک ہی ستون پر ہے۔ تمدن اور معیشت اور سیاست کے مسائل آپ کو جل کرنے ہیں تو سر جوڑ کر بیٹھیے، غور کیجیے۔ اسلامی حدود کے اندر اس کے حل کی دوسری صورتیں بھی نکل سکتی ہیں، مگر اس بچے کھچے ستون کو، جو پہلے ہی کافی کمزور ہو چکا ہے اور زیادہ کمزور نہ بنائیے۔ اس میں تخفیف کرنے سے پہلے آپ کو کم از کم اتنی قوت پیدا کرنی چاہیے کہ اگر کوئی مسلمان عورت بے نقاب ہو تو جہاں اس کو گھورنے کے لیے دو آنکھیں موجود ہوں، وہیں ان آنکھوں کو نکال لینے کے لیے پچاس ہاتھ بھی موجود ہوں"

یہ واضح طور پر رد عمل کی نفسیات کے تحت نکلا ہوا کلام ہے۔ کیوں کہ کسی بگڑی ہوئی معاشرت کو صالح معاشرت بنانے کا کام یقینی طور پر حکمت اور تدریج کے ساتھ کرنا ہو گا نہ یہ کہ ہم مصلحین کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ جہاں ایک مرد کی آنکھ کسی عورت پر اٹھے، تم فوراً اس کی دونوں آنکھیں نکال کر اس کو ہمیشہ کے لیے اندھا کر دو۔

جو داعی مثبت نفسیات کے تحت اٹھے، اس کا طریقہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کا نمونہ ہے۔ یہاں میں ایک مماثل واقعہ کا حوالہ دیتا ہوں۔ حجۃ الوداع کے سلسلہ میں جو واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ سب ذیل الفاظ میں منقول ہوا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page