تخلیق کا مقصد
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳
الفضل ينظر إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ الیہ فجعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يصرف وجہ الفضل الی الشق الاخر - (رواہ البخاری و مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر کے موقع پر فضل بن عباس کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھالیا تھا۔ وہ خوبصورت بالوں والے اور پرکشش شخصیت والے آدمی تھے۔ اس دوران قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل بن عباس کی طرف دیکھنے لگی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل بن عباس کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے ۔ اوپر موجودہ زمانہ کے ایک مسلمان مصنف کا جو اقتباس نقل کیا گیا ہے وہ رد عمل کی نفسیات سے نکلے ہوئے کلام کی مثال ہے اور پیغمبر اسلام کا مذکورہ واقعہ مثبت نفسیات کے تحت ظاہر ہونے والے رویہ کی مثال۔
اسلام کی خدمت کے لیے اٹھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کی ابدی تعلیمات سے متاثر ہو کر اٹھے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس قسم کے مسائل سے متاثر ہو کر اٹھے جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو سیاسی اور تہذیبی شکست کے نتیجہ میں پیش آئے۔ اول الذکر آدمی کے اندر ایجابی نفسیات ہوگی۔ اور ثانی الذکر آدمی کے اندر سلبی نفسیات ۔ پہلا آدمی اس جذبہ سے سرشار ہوگا کہ خدا کی جس آفاقی رحمت سے وہ آشنا ہوا ہے، اس میں دوسروں کو حصہ دار بنائے ۔ اس کے برعکس دوسرا آدمی اس جذبہ میں کھول رہا ہوگا کہ جن لوگوں نے اس کو نقصان اور شکست سے دوچار کیا ہے، ان پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ ٹوٹ پڑے۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مصلحین ملت دوسری قسم سے تعلق رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لوگوں کو " اندھا " بنانے کی مثالیں قائم کیں۔ وہ لوگوں کو " بینا " بنانے کی مثال نہ کرسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues