خلاصۂ کلام
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
خلاصۂ کلام
سیاست کی دو قسمیں ہیں۔ ایک باہر رخی (Outward oriented) سیاست ۔ اور دوسرے اندر رخی (Inward oriented) سیاست۔ باہر رخی سیاست وہ ہے جس میں کسی بیرونی طاقت کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف دھوم مچائی جائے ۔ اس کے مقابلہ میں اندر رخی سیاست وہ ہے جس میں اندرونی کمیوں کو نشانہ بنا کر ان کی اصلاح پر ساری طاقت صرف کی جائے۔ پہلے قسم کی سیاست احتجاجی غیر کا ذہن پیدا کرتی ہے اور دوسرے قسم کی سیاست تعمیر خویش کا ۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کے درمیان نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے باہر رخی سیاست کا ہنگامہ جاری ہے۔ یہ بلاشبہ جھوٹی سیاست ہے۔ اس قسم کی سیاست کچھ سطحی لیڈروں کے لیے ذاتی طور پر مفید ہو سکتی ہے ، مگر وسیع تر ملت کے لیے وہ یقینی طور پر زہر ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں ترقی کا واحد راز ذاتی جدوجہد ہے ، اور یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جس سے لیڈروں کی موجودہ قسم کی سیاست نے مسلمانوں کو محروم کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ دنیا جد و جہد کی دنیا ہے۔ یہاں رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھنا ہے۔ یہاں مخالفتوں کے باوجود اپنے لیے راہ نکالنا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں ، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوں گے ۔ اور جو لوگ اس امتحان میں پورے نہ اتریں ، ان کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues