Al-Risala · April 1988 · page 29

ملت کا المیہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹

ایک واقعہ

ایک لیڈر صاحب سے میری گفتگو ہوئی۔ ان کے دونوں کے ایک "غیرمسلم" تعلیمی ادارہ میں اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنے لڑکوں کو مسلم یونیورسٹی میں کیوں نہیں داخل کیا، ان کو آپ غیر مسلم ادارہ میں کیوں تعلیم دلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہاں مقابلہ (Competition) کا ماحول ہے، جب کہ مسلم یونیورسٹی میں مقابلہ کا ماحول نہیں اور آپ جانتے ہیں کہ بڑی ترقی حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کا ماحول بے حد ضروری ہے۔

میں نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں آپ جو بیانات دیتے رہے ہیں اس میں آپ نے مسلسل اس نظریہ کی وکالت کی ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے رعایت (Relaxation) ہونا چاہیے ۔ پھر جب بڑی ترقیاں مقابلہ کے ذریعہ ہوتی ہیں تو آپ مسلم یونیورسٹی میں اس کے خلاف ماحول کیوں بنانا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عام مسلم طلبہ کے ساتھ اگر مسلم یونیورسٹی میں رعایت نہ کی جائے تو دوسری کون سی جگہ ہے جہاں وہ اپنے لیے رعایت پاسکیں گے ۔ پھر ان کا انجام کیا ہوگا ۔

میں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد کے لیے تو آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسے ماحول میں ڈالیں جہاں محنت کا محرک موجود ہوتا کہ وہ زیادہ سے زیادہ محنت کر کے زیادہ سے زیادہ آگے بڑھیں۔ مگر قوم کے بچوں کے لیے محنت کا محرک ختم کرکے انھیں کاہل بنادینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے تعلیمی طور پر پیچھے ہو جائیں۔ اپنے بچوں کو آپ تعلیمی ہیرو دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو تعلیمی ہریجن یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں کا حال ہے ۔ وہ اپنی اولاد کے لیے کچھ پسند کرتے ہیں اور ملت کی اولاد کے لیے کچھ ۔ یہی وجہ ہے کہ لیڈر اور ان کے متعلقین کامیابی کی راہ میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ مگر ملت کے حصہ میں اس کے سوا کچھ اور نہ آیا کہ وہ جلسوں کی بھیڑ کے ذریعہ لیڈروں کی شانِ قیادت میں اضافہ کریں اور اس کے بعد بربادی کا نشان بن کر رہ جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page