Al-Risala · April 1988 · page 33

Bhopal: Old and New

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳

تعداد میں جگ مگ کر رہے تھے۔ بالکل وہی منظر تھا جو رات کے وقت کھلے آسمان میں ستاروں کی جگمگاہٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسا معلوم ہوا گویا ہمارا جہاز تاروں بھرے آسمان میں اتر رہا ہو۔

ایک لمحہ کے لیے یہ واقعہ میرے لیے زندگی کے وسیع تر سفر کی تمثیل بن گیا۔ ہم میں سے ہر شخص دنیا سے آخرت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ ہر ایک کا "جہاز" تیزی سے رواں ہے تاکہ وہ بالآخر" "آسمان" میں اتر جائے ۔ مگر لوگ صرف پہلے سفر کو جانتے ہیں۔ دوسرے سفر کو جاننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ ایر انڈیا کے انفلائٹ میگزین نمسکار (جون ۱۹۸۷) میں ایک مضمون حسب ذیل عنوان کے ساتھ شامل ہے :

Bhopal: Old and New

سات صفحہ کے اس مضمون میں مسلم بھوپال کے بارے میں دلچسپ معلومات ہیں۔ اس کا صفحہ ۴۵ سب سے زیادہ سبق آموز ہے۔ اس صفحہ پر شہر بھوپال کا ایریل فوٹو دیا گیا ہے۔ اس تصویر میں بھوپال کی تاج المساجد اس طرح نمایاں طور پر ابھری ہوئی نظر آتی ہے جیسے کہ چھوٹے چھوٹے پیڑوں کے باغ میں یوکلپٹس کے دو اونچے درخت کھڑے ہوئے ہوں ۔

بھوپال ایرپورٹ پر اترا تو وہاں دوسرے صاحبان کے علاوہ حضرت قبلہ پیر سعید میاں مجددی مدظلہ العالی بھی موجود تھے۔ یہ دیکھ کر بہت شرمندگی ہوئی۔ کیوں کہ وہ میرے لیے اور تمام لوگوں کے لیے بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واپسی کے وقت بھی وہ از راہ عنایت ایرپورٹ پر دوبارہ تشریف لائے۔ ان کی بزرگانہ حیثیت کی بنا پر میں زیادہ اصرار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بھوپال میں میرا قیام بھی حضرت قبلہ مدظلہ العالی کی خانقاہ مجددیہ ہی پر رہا۔ دوران قیام کے تجربات اور فیوض کا کچھ تذکرہ اگلے صفحات میں درج ہے ۔

ایک مرتبہ میں نے ایک صاحب کا "سفر نامہ بھوپال" پڑھا۔ انہوں نے لکھا تھا: "شہر میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر دو بلند میناروں پر پڑتی ہے جو اس شہر کی عظمت اور وقار کے اکلوتے گواہ ہیں۔ انہیں دیکھ کر ذہن میں اسلامی بھوپال کی تاریخ رقص کرنے لگتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تاج المساجد کے دو مینار سے شہر کے سب سے بلند عمارتی نمونے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page