Al-Risala · April 1988 · page 47

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

کے دل و دماغ پر فتح پائی۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی تلقین آپ اپنی تحریروں میں کرتے ہیں آپ کی کتابوں نے میرے ذہن کو حقیقت پسند بنا دیا۔ اور میری زندگی کا نیا دور شروع ہو گیا۔ اب میں کہوں کہ میں نے از سر نو زندگی کا آغاز کیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ (الطاف حسین شاہ کشمیر ۱۰۔ ایک صاحب اپنے خط (۱۲ فروری ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں : الرسالہ کے ذریعہ آپ قوم کو جو پیغام دے رہے ہیں وہ بہت تعمیری اور مثبت ہے۔ الرسالہ کے مطالعہ نے میری زندگی میں ایک خوش گوار تبدیلی پیدا کی ہے۔ پہلے میں مسلمانوں کی حالت زار کے لیے اکثریتی فرقہ اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا تھا اور اس کے لیے فریقِ ثانی سے بدلہ لینا چاہتا تھا جس سے ہر وقت میں انتہا پسندی اور جذباتیّت کا شکار رہتا تھا۔ اب میں مسلمانوں کی موجودہ حالتِ زار کو خود مسلمانوں کی غفلت، کو تاہی اور نا عاقبت اندیشی کا نتیجہ مانتا ہوں جس سے مجھ میں جوش کی جگہ ہوش اور شکایت کی جگہ عمل کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے۔ (غفران الحق، نالندہ) ۱۱۔ ایک صاحب تعبیر کی غلطی“ کا مطالعہ کرنے بعد لکھتے ہیں : میں نے اسلام کی انقلابی تشریح کا جو تصور اپنے ذہن میں بنایا تھا، آج اس کتاب (تعبیر کی غلطی) کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ ۳۵ سالہ عمارت دھڑام سے گر پڑی۔ اب میں نئی عمارت بنانے کی کھوج میں از سر نو منہمک ہو گیا ہوں (ہاشم، بنگلور ۱۲۔ ایک نئی کتاب چھپنے کے لیے پریس میں بھیجی گئی ہے۔ اس کا نام ”میوات کا سفر“ ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے پچھلے ۲۰ برسوں میں میوات کے علاقے کے بہت سے سفر کیے تھے۔ ان کے سفرنامے بھی پہلے شائع ہوئے تھے۔ اب ان تمام مضامین کو یکجا کر کے ”میوات کا سفر“ کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے ۔ پوری کتاب سبق اور نصیحت کی باتوں سے اور مختلف قسم کے تجربات سے بھری ہوئی ہے ۔ میوات کا سفر ایک اعتبار سے پوری ملت اسلامیہ ہند کا مطالعہ ہے ۔

۱۳۔ اسلامی مرکز ایک دینی اور تعمیری ادارہ ہے ۔ اسلامی مرکز کے ساتھ تعاون کرنا دینی دعوت اور تعمیری مہم میں تعاون کرنا ہے۔ آپ کا ہر قسم کا تعاون شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔ اپنی رقوم بھیجتے ہوئے مد کی ضرور صراحت فرما دیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page