Al-Risala · April 1988 · page 46

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۶

نمائش میں ہندوستان کے علاوہ ۷۵ دوسرے ملکوں نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر سات سو ناشرین اور کتب فروشوں نے اپنے اسٹال لگائے۔ اس موقع پر مکتبہ الرسالہ اور اسلامی مرکز کی مطبوعات کا بھی اسٹال لگایا گیا۔ لوگ کثیر تعداد میں آئے اور گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ۷۔ الرسالہ ریڈرس سرکل دہلی کی طرف سے ۳۰ جنوری ۱۹۸۸ کی شام کو غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ اس کے صدر جناب سید حامد صاحب (سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی۔ تقریر کا موضوع تھا : ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل۔ پورا ہال نیچے سے اوپر تک بھرا ہوا تھا۔ شہر کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کثیر تعداد میں شریک ہوا۔ اور مسٹر جاوید حبیب نے اناؤنسر کے فرائض انجام دیے۔

۸۔ مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا مشن اب خدا کے فضل سے عمومی تائید کے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے۔ جگہ جگہ لوگ فساد کو روکنے کے لیے الرسالہ میں بتائی جانے والی حکیمانہ تدبیر کو اختیار کر رہے ہیں۔ الرسالہ نومبر 1987 میں شائع شدہ مضمون آزمودہ حل کو بہت سے اخبارات ورسائل نے نقل کیا۔ مختلف لوگ الرسالہ کے حوالہ کے بغیر الرسالہ والی بات کو دہرارہے ہیں۔ روزنامہ قومی آواز (۵ جنوری ۱۹۸۸) نے "ضرورت ہے نئی قیادت کی" کے زیر عنوان ایک مفصل مضمون نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں الرسالہ کے نقطہ نظر کی صد فی صد تائید کی گئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

۹۔ الرسالہ کا مشن الحمد للہ خاموشی کے ساتھ صالح ذہن بنا رہا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک خط کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان لکھتے ہیں : میں کالج کے میدان میں کچھ لڑکوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک ہم عمر بھائی نے مجھے بھری محفل میں بے عزت کر دیا۔ حالانکہ میں نے کوئی ناشائستہ لفظ اپنی زبان سے نہیں نکالا تھا۔ مگر اچانک وہ اتنا ترش ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں ایک لفظ نہیں بولا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ اس واقعہ کے دو دن بعد وہ نوجوان دوبارہ مجھ سے ملا اور مجھ سے معافی مانگنے لگا کہ غلطی اسی کی تھی، بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے۔ لیکن اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ میں نے صبر کے ذریعہ اس نوجوان

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page